Type to search

صحت

خطرناک ہوسکتا ہے کراس لیگ کرکے بیٹھنا، صحت پر پڑتا ہے خراب اثر

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) بات جب باڈی لینگویج اور اسٹائلنگ کی آتی ہے تو کراس لیگ (پیر پر پیر ڈال کر بیٹھنا) کرکے بیٹھنا اعتماد (کونفیڈنس) ہونے کی علامت  مانا جاتا ہے۔ بیٹھنے کے اس طریقے میں ہم سبھی بہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ لیکن یہ آرام دہ ہمارے جسم کو بہت ذیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ کیونکہ صحت ماہرین کا کہنا ہے کہ لمبے وقت تک ایک کے اوپر ایک پیر رکھ کر بیٹھنے سے بلڈ پریشر اور ویریکوس وینس (رگوں) جیسے مسائل ہوسکتے ہیں۔

کراس لیگ (پیر) پوزیشن کا بی پی پر اثر

کئی ہیلتھ اسڈڈیز میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ایک کے اوپر ایک پیر رکھ کر بیٹھنے سے ہماری رگوں پر دباؤ پڑتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارا بلڈ سرکولیشن بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے بی پی کے مریضوں کو اس پوزیشن میں بیٹھنے سے بچنا چاہیئے۔ ساتھ ہی جن لوگوں کو بی پی کی مشکل نہیں ہے۔ انہیں لمبے وقت تک اس پوزیشن میں نہیں بیٹھنا چاہیئے۔

بلڈ سرکولیشن پر اثر

کراس لیگ کرکے بیٹھنے سے صرف بلڈ پریشر پر اثر پڑتا ہے بلکہ بلڈ سرکولیشن بھی متاثر ہوتا ہے ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ آپ جب ایک پیر کے اوپر پیر رکھ کر بیٹھے ہیں تو دونوں پیروں میں بلڈ سرکولیشن ایک جیسا نہیں ہوپاتا ہے اس وجہ سے پیروں جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا مسئلہ ہونے لگتا ہے۔

پیلوک امبیلنس

کراس لیگ پوزیشن میں ہماری پیلوک مسلز (پٹھوں) امبیلنس ہوسکتی ہے۔ کیونکہ ہر دن کئی کئی گھنٹے اس حالت میں بیٹھنے پر ہمارے تھائز میں کھینچاؤ ، سوجن، سن ہونا یا درد کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔

جوڑوں (جوائنٹس) میں دشواری

ایک ہی جگہ پر اور خاص طور پر آفس میں کرسی پر 8 سے 9 گھنٹے روز کراس لیگ کرکے بیٹھنے سے پیروں کے جوائنٹس پین (جوڑوں کا درد) ہوسکتا ہے۔ کئی بار ہم سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ چہل قدمی، ورزش اور یوگا کرنے کے بعد بھی ہمارے جوڑوں میں درد کیوں ہورہا ہے، تو اس درد کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ ہمار کراس لیگ پوزیشن ہوتا ہے۔

لور بیک (کمر کے نیچے درد) میں درد

کیا آپ کو بھی اٹھتے بیٹھتے وقت کمر کے نچلے حصہ میں درد ہوتا ہے ؟ یا جکڑن کا احساس ہوتا ہے؟ اگر اس سوال کے جواب آپ ہاں میں دے رہے ہیں تو آپ کو اپنے بیٹھنے کے طریقے میں سدھار کرنے کی ضرورت ہے۔ آج سے ہی کراس لیگ پوزیشن میں بیٹھنا بند کردیں۔

فالج سے بچنے کے لیے

کراس لیگ کرکے نہ بیٹھنے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے بھی بتائی جاتی ہے کہ اس حالت میں لمبے وقت تک بیٹھنے پر پولیسی یا پیریونل اعصابی فالج ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص ہر روز کئی گھنٹے اس حالت میں بیٹھتا ہے تو اسکی نروس ڈیمیج (اعصابی نقصان) ہوسکتا ہے۔

بیٹھتے وقت رکھیں ان باتوں کا خیال

آفس میں بیٹھنے کی نوکری ہے تو ظاہر طور پر آپ کو بیٹھنا ہی پڑے گا۔ لیکن اگر آپ صحت سے جڑی ہرطرح کے مسئلہ سے بچنا چاہتے ہیں تو درمیان میں سیٹ سے بریک لیتے رہے۔ کم سےکم ہر 45 منٹ بعد 5 منٹ کا بریک ضروری لیں۔

جب بیٹھنا ہو کئی گھنٹے

ایک ہی سیٹ یا جگہ پر کئی گھنٹے روز بیٹھنے کے دوران آپ تھوڑے تھوڑے وقت بعد اپنی بیٹھنے کی جگہ تبدیل کرتے رہے۔ درمیان میں سیٹ سے کھڑے ہوکر پھر بیٹھ جائیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف باڈی میں حرکت بنی رہتی ہے بلکہ تھکان بھی حاوی نہیں ہوتی۔

اس لیے نہیں ہوتی تھکان

آپ کو لگ رہا ہوگا کہ سیٹ سے درمیان میں اٹھنے پر آخر تھکان کیسے کم ہوسکتی ہے ؟ تو اس سوال کا جواب ماہرین اس طرح دیتے ہیں کہ جب ہم کافی دیر بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے ہیں تو ہمارا بلڈ سرکولیشن تیز ہوجاتا ہے۔ اس لیے باڈی میں آکسیجن لیول بھی بڑھتا ہے اور ہم تازگی کا احساس کرتے ہیں۔