Type to search

تلنگانہ

آندھرا میں کورونا کا علاج آروگیا شری سے ممکن تو تلنگانہ میں کیوں نہیں؟

corona-treatment

حیدرآباد،10جولائی(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) آندھراپردیش میں کورونا وائرس کے علاج کو آروگیا شری میں شامل کرنے کے لیے آندھراپردیش سی ایم وائی ایس جگن موہن ریڈی کی ہر طرف تعریف ہورہی ہے۔ اور انکے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ سی ایم جگن کے اس فیصلے کے بعد کورونا کی زرد میں آئے غریب لوگ مفت میں علاج کرا سکیں گے۔ وہ غریب جنکے پاس نجی ہاسپٹل میں علاج کے لیے پیسے نہیں ہے وہ بھی آروگیا شری کے تحت آسانی سے علاج کرلیں گے۔

کانگریس کے رہنما اتم کمار ریڈی نے تو ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سی ایم جگن موہن ریڈی کورونا کے علاج کو آروگیا شری میں شامل کررہے ہیں ٹھیک اسی وقت کے سی آر سیکریٹریٹ کو توڑنے کا کام کررہے ہیں۔ یہ دیکھ کر تو صاف معلومات ہوتا ہے کہ کون کس چیز کو اہمیت دیتا ہے اور کس کی کیا ترجیح ہے۔

 

اب جب پڑوسی تلگو ریاست میں آروگیا شری کے تحت کورونا کا علاج ہورہا ہے تو آندھرا کی طرح، تلنگانہ حکومت کو بھی کورونا کے علاج کے لیے آروگیا شری کو لاگو کرنا چاہیئے۔ یہ مانگ اٹھ رہی ہے۔ کورونا کے علاج کو جس طرح سی ایم جگن موہن ریڈی نے آروگیا شری میں شامل کیا ہے ویسے ہی تلنگانہ کی کے سی آر حکومت کو بھی کرنا چاہیئے، یہ بات اب ہر عام اور خاص کہتا دیکھ رہا ہے۔

 

بی سی رہنماؤں نے وزیر صحت ایٹیلا راجیندر سے ملاقات کرکے آروکیا شری کے تحت کورونا علاج کو شامل کرنے کی مانگ کی۔ قابل ذکر ہے کہ ٹی آر ایس کارکنان بھی یہی مانگ کررہے ہیں۔

مرکز نے پہلے ہی ایوشمان بھارت منصوبہ کے تحت کورونا علاج کو کور کیا ہے۔ لیکن کے سی آر کا کہنا ہے کہ ایوشمان بھارت کے مقابلے میں آروگیا شری ایک بہتر منصوبہ ہے۔

ایوشمان بھارت کو تلنگانہ میں لاگو نہیں کیا جارہا ہے۔ لیکن اب جب کورونا علاج کو آروگیا شری کے دائرے میں نہیں لایا گیا ہے، بی جے پی رہنما تلنگانہ میں ایوشمان بھارت منصوبے کو لاگو کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔