Type to search

تلنگانہ

شہر میں گھوم رہے کورونا مریض، تھوڑی سی لاپرواہی مہلک ثابت ہوسکتی ہے

corona-patient

حیدرآباد،6جولائی(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) شہر میں سرکاری اور نجی ہاسپٹلس کے آئیسولیشن وارڈ تقریبا مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ ہر دن جو کورونا کے نئے کیس آرہے ہیں انکے لیے ہاسپٹلس میں بیڈ نہ ہونے کی صورتحال ہوگئی ہے۔ ایسے حالات ہوگئے ہیں جہاں حکومت بھی کچھ نہیں کر پا رہی ہے۔ کورونا وائرس کے سنگین علامات سے متاثرہ مریضوں کو ہاسپٹلس میں شریک کیا جارہا ہے۔

یہ تو پتہ ہی ہے کہ جو مریض کورونا مثبت پائے جارہے ہیں ان میں کم وہ عام علامات دیکھ رہے ہیں انہیں ہوم آئیسولیشن میں رکھا جارہا ہے۔

ریاست میں میں 10487 ایکٹیو کیس ہیں، جن میں سے 60فیصد یعنی 6556 ایسے کورونا متاثرین ہیں جو ہوم آئیسولیشن میں ہے۔ ان میں سے 90 فیصد کیس گریٹر حیدرآباد کے اندر ہی ہیں۔

 

سرکاری ہاسپٹلس میں بیڈ کم ہونے سے ذیادہ مریضوں کو وہاں نہیں رکھا جارہا ہے اور جو لوگ ہوم آئیسولیشن میں ہیں ان لوگوں کے صحت پر نگرانی رکھنے کی ذمہ داری محلے کے یعنی بستی دواخانے کے ڈاکٹروں کو سونپی گئی ہے۔

ان ڈاکٹروں کی ڈیوٹی ہے کہ لوگ متاثرین کے گھر جائیں اور آئی سی ایم آر کے قواعد کے مطابق گھر میں آئیسولیشن میں رہ رہے مریضوں کی سہولت وہ صحت کی جانچ کریں۔ مطمئن ہونے کے بعد، انہیں ضروری ماسک کے ساتھ ساتھ سینیٹائزر اور ملٹی وٹامن ٹیبلٹ کٹس بھی فراہم کی جانی چاہئیں۔

 

پر دیکھا جارہا ہے کہ ان مریضوں کی نہ حکومت کو فکر ہیں اور نہ ہی محلے کے ڈاکٹروں کو۔ اس لیے متاثرین خود میڈیکل دوکانوں میں جاکر اپنے لیے دوا خرید رہے ہیں۔ بازاروں میں جاکر سبزیاں، پھل اور دیگر ضروری چیزیں خرید رہے ہیں۔ کوئی انکا پرسان حال نہیں ہے۔

ایسے مریضوں کے ہاتھ پر کسی طرح کا کوئی اسٹامپ تک نہیں ہے تو کیسے پتہ چلے کسی کو کہ یہ لوگ کورونا کے مریض ہیں۔ انہی مریضوں سے وائرس پھیل رہا ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ حال کے کیسوں میں اضافہ کا ایک بڑی وجہ ہے۔

Tags:

You Might also Like