Type to search

بزنس

غیر سبسڈی والا رسوئی گیس سلنڈر 25.5 روپے مہنگا ہوا

بزنس ڈسک، 18 اگسٹ (ذرائع) عام آدمی کو چاروں طرف سے گھیرتی مہنگائی کے درمیان عوام کی جیب پر ایک اور مار پڑی ہے-

اس سے قبل یکم جولائی کو بھی رسوئی گیس کا سلنڈر 25.50 روپئے فی سلنڈر مہنگا ہوا تھا-

پٹرولیم کمپنیوں نے ایک بار پھر ایل پی جی (رسوئی گیس) کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ اب غیر سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی سلنڈر کے لیے آپ کو مزید 25 روپے ادا کرنے ہوں گے۔

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب دہلی میں گھریلو استعمال والے 14.2 کلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 859.5 روپے ہو گئی ہے۔ بتادیں کہ ایل پی جی کی نئی قیمت پیر کی رات سے ہی نافذ ہو گئی ہے۔
اس سے قبل یکم مارچ کو 14.2 کلوگرام کے غیر سبسڈی والے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 25 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد یکم اپریل کو اس کی قیمت 10 روپے کم ہو کر 809 روپے فی سلنڈر ہو گئی اور مئی اور جون میں اس کی قیمت 809 روپے فی سلنڈر پر مستحکم رہی۔
پیٹرول ، ڈیزل اور رسوئی گیس کی لگاتار بڑھتی قیمتوں پر حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سب بین الاقوامی قیمتوں پر منحصر ہے اور اسکے ہاتھ میں ذیادہ کچھ نہیں ہے-
ملک کے چار میٹرو شہروں میں بغیر سبسڈی والے ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں درج ذیل ہیں۔
دہلی میں 834.5 ، کولکتہ میں 861 ، ممبئی میں 834.5 ، چنئی میں 850.5 روپئے ہے-
غور طلب ہے کہ تیل کمپنیاں ہر مہینے کی پہلی اور پندرا تاریخ کو رسوئی گیس کی قیمت کا جائزہ لیتی ہیں۔
بتادیں کہ اس سے قبل یکم جولائی کو تیل کمپنیوں نے رسوئی گیس سلنڈر میں 25 روپئے کا اضافہ کیا تھا-
اسکے بعد پیر کی رات تقریبا 10 بجے قیمتوں میں اضافہ کی اطلاع دی گئی اور رات سے ہی نئی شرح لاگو ہوگئی ہے- اس طرح سے اچانک پیٹرول لیم کمپنیوں نے رسوئی گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
اسی سال فروری سے اب تک رسوئی گیس کی قیمتوں میں فی سلنڈر 80.50 روپئے کا اضافہ ہوچکا ہے- فروری میں رسوئی گیس کی قیمتوں میں دو بار اضافہ ہوا تھا- پہلے قیمت 831٫50 روپے ہوئی، پھر 15 فروری کو غیر سبسڈی رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت 831٫50 روپئے تھی-
اور 25 فروری کو سلنڈر کی قیمتوں میں پھر اضافہ ہوا- تب قیمت 856٫50 روپئے ہوگئی- کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں پانچ مہینے میں 115 روپئے کا اضافہ ہوچکا ہے-

Tags:

You Might also Like