Type to search

Uncategorized

سچن پائلٹ اور دو وزير ریاستی کابینہ اور کانگریس پارٹی سے برخاست

Sachin Pilot

جے پور، 14 جولائی (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) راجستھان کی گہلوت حکومت چھائے بحران کے بادل چھٹنے کا نام نہیں لے رہیں ہیں۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کی میٹنگ میں سچن پائلٹ اور انکے حامی ایم ایل اے نہیں پہنچنے پر کانگریس نے بڑی کاروائی کی ہے۔

 

کانگریس کے ایکشن پر سچن پائلٹ نے ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ٹیوٹ کے ذریعہ اپنا جواب دیا ہے۔ پائلٹ نے اپنے ٹیوٹ میں لکھا کہ ستیہ پریشان ہوسکتا ہے، شکست نہیں۔ جب سے راجستھان کا سیاسی ڈرامہ شروع ہوا ہے ، تب سے یہ پہلا موقع ہے جب سچن پائلٹ نے عوامی طور پر ردعمل دیا ہے۔ پارٹی سے برخاست ہونے کے بعد سچن پائلٹ نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ کے بائیو سے کانگریس ہٹا لیا ہے۔

 

راجستھان میں کانگریس پارٹی کے اندر جاری رسہ کشی کے سبب نائب وزیر اعلی سچن پائلٹ، وزیر خوراک و رسد رمیش مینا اور وزیر سیاحت وشویندر سنگھ کو ریاستی کابینہ اور پارٹی سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سورجے والا نے آج اس سلسلے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مسٹر سچن پائلٹ کو ریاستی کانگریس صدر کے عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ وزیر تعلیم گووند ڈوٹاسرا پارٹی کے ریاستی صدر بنائے گئے ہيں۔

ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کل اور آج ہونے والے قانون ساز پارٹی کے اجلاسوں سے مسٹر سچن پائلٹ کے غیر حاضر رہنے کے بعد یہ کارروائی کی گئي ہے۔ مسٹر پائلٹ کو قانون ساز پارٹی کے اجلاس میں آنے کے لئے ایک تحریری پیغام بھیجا گیا تھا، نیز ان کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش بھی کی گئی لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔

مسٹر سچن پائلٹ نے اپنے خیمے میں 30 ایم ایل اے ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے گہلوت حکومت کے پاس اکثریت نہ ہونے کا دعوی کیا تھا۔ اس کے بعد مسٹر گہلوت نے ایک ہوٹل میں قانون ساز پارٹی کے اجلاس سے قبل میڈیا کے سامنے 106 ایم ایل اے کی حمایت حاصل ہونے کا دعوی کیا۔

 

چیف منسٹر اشوک گہلوت نے سچن پائلٹ کو ہٹائے جانے پر رد عمل دیا ہے۔ گہلوت نے کہا، مجبور ہوکر سچن پائلڈ کو ہٹانا پڑا۔ چھ ماہ سے سچن کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔ روز ٹیوٹ کرکے بیان دیتے رہتے تھے۔ میں ہر ایم ایل اے کا کام کیا۔ جو فیصلے ہوئے اس سے کوئی خوش نہیں۔