Type to search

قومی

بی جے پی میں شامل ہوئے کانگریس کے سرکردہ لیڈر جیوتی رادتیہ سندھیا

دہلی،11مارچ(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) کانگریس چھوڑنے کے ایک دن بعد جیوتی رادتیہ سندھیا آج (منگل 11 مارچ) بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے۔ سندھیا نے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا (جگت پرکاش نڈا)کی موجودگی میں بی جے پی کی رکنیت لی۔ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد سندھیا نے کہا کہ میری زندگی میں دو تاریخیں بہت اہم رہی۔ وہ پہلا دن 30 ستمبر 2001 تھا، جس دن میں نے اپنے والد کو کھویا، وہ میرے لیے زندگی بدلنے کا دن تھا۔ دوسری تاریخ 10 مارچ 2020 تھی۔

اس دن میں نے ایک نیا فیصلہ لیا۔ سندھیا نے کہا، میں نے ہمیشہ مانا ہے کہ ہمارا ہدف عوامی خدمت ہونا چاہیئے۔ سیاست صرف اس ہدف کو پورا کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیئے اور کچھ نہیں۔ سندھیا نے کہا کہ آج والی کانگریس پہلے جسی نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت میں آج ٹرانسفر انڈسٹری چل رہا ہے۔

اس موقع پر جے پی نڈا نے سندھیا کو خاندان کا رکن بتایا۔ جے پی نڈا نے کہا، آج ہم سب کے لیے بہت خوشی کا موقع ہے اور آج میں ہمارے سینئر مرحوم لیڈر راجماتا سندھیا جی کو یاد کررہا ہوں۔

ایسا مانا جارہا ہے کہ بی جے پی جیوتی رادتیہ سندھیا کو اپنے کوٹے سے راجیہ سبھا کا امیدوار بنائے گی اور بعد میں انہیں مرکز میں وزیر بنایا جاسکتا ہے۔ سندھیا نے منگل کو امیت شاہ سے ملاقا کی تھی۔ اسکے بعد ان دونوں نے پی ایم مودی سے انکے رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ ان میٹنگس کے بعد سندھیا نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اپنا استعفی بھیج دیا تھا۔ استعفی میں تاریخ پیر۔9 مارچ کی تھی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے مسٹر شاہ اور مسٹر مودی سے ملاقات سے قبل ہی کانگریس سے استعفی دے دیا تھا۔مسٹر سندھیا کے استعفی کے بعد ان کے حامی 22 کانگریسی ممبران اسمبلی نے بھی استعفی دے دیا۔اس سے مدھیہ پردیش کی کمل ناتھ حکومت اقلیت میں آگئی ہے۔