Type to search

قومی

برقعہ پہن کر کالج آئی لڑکیاں تو پرسنپل نے چھڑی دیکھا کر واپس بھیجا

اترپردیش،10 ستمبر(اردوپوسٹ ڈاٹ کام) کاج میں لڑکیوں کی ڈریس کوڈ کو لیکر جھگڑا پرانا ہے۔ اکثر ان سے کہا جاتا ہے کہ جینس نہ پہنے، مغربی لباس نہ پہنے، روایتی لباس پہنواے میں رہو، لیکن یوپی کے فیروز آباد میں ایک نیا عجوبہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وہاں ایس آر کے ڈگری کالج نے برقعہ پر پابندی لگا دی ہے۔ کالج کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے۔ جس میں پرنسپل چھڑی لیکر برقعہ میں آئی طلبا کو کالج سے بگھاتے نظر آرہے ہیں۔ ان لڑکیوں کا کہنا ہے کہ ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بس اسٹاپ پر برقعہ اتار کر کالج میں داخل ہو۔

برقعہ پہننا کسی کالج کے ڈریس کوڈ کے خلاف ہوسکتا ہے۔ اسے عورت کی آزادی کے بھی خلاف ماناجاسکتا ہے۔ اسے پچھڑے پن کی نشانی بھی کہہ سکتے ہیں پر یہ ملک کے کسی قانون کے خلاف نہیں ہے۔ فی الحال یہ چونکانے والا ہے کہ کالج کے پرنسپل چھڑی لیکر برقعہ پہننے والی لڑکیوں کو کس طرح چھڑی دیکھا کر بھگا رہے ہیں۔

ایس آر کے ڈگری کالج کے پرنسپ پربھاکر رائے کا کہنا ہے کہ یہ قانون پرانا ہے کہ لڑکیوں کو یونیفارم میں آنا ہے۔ چونکہ ابھی ایڈمیشن چل رہے تھے اس لیے اسکا سختی سے عمل نہیں کیا جارہا تھا۔ اب ایڈمیشن پروسیس پوراہوگیا ہے اس لیے 11 تاریخ کے بعد سے بنا تعارفی خط اور بنا یونیفارم کے داخلہ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برقعہ ڈریس کے ڈریس کے اندر نہیں آتا ہے۔ ڈریس میں جو کالج کی طرف مقررہ ڈریس ہے اسےہی اجازت دی جائے گی۔
کالج میں پولیس کا بندوبست ہے۔ پولیس برقعہ پہننے والی لڑکیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ باہر بس اسٹانڈ پر جاکر برقعہ اتار کرآئے۔ کلاس کے اندر برقعہ اتارنےکی اجازت نہیں ہے۔ تمام برقعہ والی لڑکیوں کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ برقعہ میں کالج آتی ہے۔ لیکن اچانک یہ قانون لاگو کردیا گیا ۔

یہ خبر این ڈی ٹی وی سے لی گئی ہے۔

Tags: