Type to search

وائرل

ہمارے ملک میں جس عمر میں بچے گیم کھیلتے ہیں، وہیں چین میں بچے کوڈنگ سیکھ رہے ہیں

بیجنگ،13ڈسمبر (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تکنیک کے علاقے میں چین یوں ہی امریکہ سے ساتھ ہی یوروپین ملکوں اور جاپان کو چینلنج نہیں دے رہا ہے- ہمارے یہاں چھوٹی عمر میں بچے جہاں انگریزی، ریاضی، ڈانس اور موسیقی کا ٹیوشن لیتے ہیں اور گیم کھیلتے ہیں، چین میں اس عمر کے بچے ڈیجیٹل کوڈنگ سیکھتے ہیں-

کوڈنگ ٹیوٹوریل چینل شروع

چین کے ویڈیو اسٹرمنگ سائٹ Bilibili بلیبییلی پر Vita ویٹا نامی بچے نے اس سال اگسٹ میں کوڈنگ ٹیوٹوریل چینل شروع کیا تھا- چار مہینے میں ہی اسکے 60 ہزار سے زیادہ فالوورس ہوگئے ہیں- اور 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اسکی سائٹ کو دیکھا ہے-

ویٹا اکلوتا نہیں ہے ، چین میں اسکی طرح کے بچوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے- حال یہ ہے کہ پرائیمری اسکول میں داخلہ لینے سے پہلے ہی وہاں بچے کوڈنگ سیکھ رہے ہیں- اسکے پچھے والدین کا بڑا رول ہے- جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ چینی حکومت نے جس طرح سے تکنیک کو فروغ دے رہی ہے، اس حالت میں نوجوانوں کو کوڈنگ کی معلومات ہونی ہی چاہیئے-

شنگھائی میں رہنے والے ویٹا کا کہنا ہے کہ کوڈنگ آسان نہیں ہے، لیکن بہت مشکل بھی نہیں ہے- کم سے کم اسے جتنا مشکل ماناجاتا ہے اتنا تو نہیں ہے- ویٹا اپنے چینل کے ذریعہ سے اپنے بڑی عمر کے بچوں کو بھی کوڈنگ کے بارے میں بتاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ جب وہ پڑھتا ہے تو اسکے ساتھ کچھ نئی باتیں سیکھتا بھی ہے-

چین آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کررہی ہے- لوگوں کو لگ رہا ہے کہ 20 سال بعد نوکریوں میں جنکے پاس کوڈنگ کی مہار نہیں ہوگی، انکی جگہ روبوٹ لے لیں گے، اس لیے لوگ اپنے چھوٹے بچوں کو کوڈنگ کے ٹیوشن دے رہے ہیں، کوڈنگ کمپیوٹنگ میں ایک ابتدائی تعلیم ہے، جو ٹیکنالوجی کی دنیا کو سمجھنے میں مدد کرتی ہے-

کمپیوٹر کوڈنگ کا  استعمال سافٹ ویئر ، ویب سائٹس اور ایپ بنانے میں کیا جاتا ہے- کوڈنگ کے لیے چین کا موجودہ جوش و جذبہ اسے دنیا میں آئے پاور ہاؤس بنا سکتا ہے-