Type to search

تلنگانہ

بابری مسجد: تبدیل ہیئت سے حیثیت نہیں بدلتی

بابری مسجد: تبدیل ہیئت

بقلم : امام علی مقصود شیخ فلاحی۔


بابری مسجد مغل سلطنت کے پہلے بادشاہ محمد ظہیرالدین بابرؒ کی طرف منسوب ہے۔
انھوں نے 1528 میں صوبہ اترپردیش کے فیض آباد ضلع میں ایودھیا کے مقام پر وہاں کے گورنر میر باقی اصفہانی ؒ کی نگرانی میں سرکاری خزانہ سے‌ ایک مسجد تعمیر کروائی، جسے ہم بابری مسجد کے نام سے جانتے ہیں۔

 

1855 میں جب ہندوستان پر انگریز قابض ہورہے تھے اور ان کے خلاف ہندو مسلم متحد ہورہے تھے تو انھوں ایک بدھسٹ نجومی کے ذریعہ ایک کہانی گھڑوائی کہ شری رام چندر جی کی جنم استھان (جائے پیدائش) اور شرمتی سیتا کی رسوئی (باورچی خانہ) بابری مسجد کے احاطہ میں ہے۔ اس لیے ہندؤوں نے اس مقام پر پوجا کرنا چاہا، یہیں سے اختلاف شروع ہوا۔

ہندوستان کی آزادی کے محض دو سال کے بعد ہی یعنی22 اور 23دسمبر 1949 روز جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات میں ایودھیا کے ہنومان گڑھی مندر کے مہنت ” ابھے رام داس ” نے اپنے کچھ چیلوں کے ساتھ مسجد میں گھس کر عین محراب کے اندر ایک مورتی رکھ دی۔

صبح جب مؤذن صاحب اذان دینے کے لیے آئے تو محراب کے پاس مورتی دیکھ کر حیران ہوگئے، پھر دھیرے بات پھیلتی گئی،

ہندؤوں سے پوچھنے پر انھوں نے جھوٹ کا سہارا لیا اور کہا کہ مورتی اچانک نمودار ہو گئی ہے، لیکن بااثر لوگوں کے کہنے پر مورتی ہٹادی گئی اور مسلمانوں نے فجر کی نماز جیسے تیسے ادا کرلی۔ دن کے چڑھنے کے ساتھ یہ بات پورے ملک میں پھیل گئی۔

23 دسمبر کی رات میں جب مسجد میں سناٹا تھا اچانک کچھ ہندو وہاں گھس گئے اور غیر قانونی طور سے ایک مورتی وہاں نصب کردی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے کے نائر اور سپرنٹنڈنٹ نے فوراً ہی جائے واردات پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کیا۔

چنانچہ 6 دسمبر 1992کو ہندو دہشت گردوں نے گیارہ بج کر پچپن منٹ پر بابری مسجد پر دھاوا بول دیا ، تباہ کن ہتھیار سےمسجد کی دیوارکو توڑنا شروع کردیا، چند انتہا درجہ کے بدقسمت لوگ چھت پر چڑھ گئے اور گنبدوں کو بھی تیز اور مضبوط آلہ سے توڑنا شروع کردیا۔ اس طرح وہ بغیر کسی مزاحمت کےشام چار بجے تک پوری مسجد کو مسمار کردیا۔

یوں 464سالہ قدیم تاریخی بابری مسجد زمین بوس ہوگئی ۔ یوں ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کا اضافہ ہوا۔

بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان میں کئی مقامات پر ہندو -مسلم فسادات رونما ہوئے۔ جن میں تین ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے مسجد کی تعمیر نو کا وعدہ کیا۔ مگر ابھی تک یہ وعدہ پورا نہ ہوسکا۔
بہر حال بابری مسجد کا یہ معاملہ تقریباً ستر سال تک سر پر رہا، یہاں وہاں کی باتیں ہوتی رہیں، دلائل کے انبار اکٹھے ہوتے رہے ، طرح طرح کی تنظیمیں اس میں حصہ لے تی رہیں ، لیکن کہتے ہیں نا ! جب انسان پر اندھا پن چھا جاتا ہے , اور دل و دماغ پر مہر لگا دئیے جاتے ہیں تو حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔

 

یہی وجہ رہی کہ 10 نومبر 2019 کو ، سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں تمام شواہد قبول کرلئے – پھر بھی ، ہندوستانی جمہوریت سے انکار کرتے ہوئے ، بابری مسجد کی سرزمین کو عقیدے کی بنیاد پر ہندوؤں کے حوالے کردیا گیا-

اور آج 5 اگست 2020 کو بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر بھی بھی ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے ہندوستان کے مسلمان از حد مایوسی کے شکار ہو چکے ہیں، کیونکہ آج پورے ملک میں اسی کا چرچا ہو رہا ہے، ہندوستان میں جتنے ٹی وی چینلز ہیں سب اسی کی تصویریں دکھا رہے ہیں، جے شری رام کے نعرے لگائے جارہے ہیں، جگہ بجگہ دئیے جلائے جارہے ہیں، اور مسلمان مایوسیوں کو گلے لگائے ہوئے ہیں۔

ان‌ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اور سکون قلب کے لئے، مایوسیوں کو پس‌پشت ڈالنے کے لئے، مناسب سمجھا کہ ذرا اس معاملہ پر بھی تبصرہ کردینا چاہئے۔

قارئین ! جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب بھی کسی مسجد کی تعمیر کی جاتی ہے تو وہ زمین ہماری ملکیت سے نکل کر خدا کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اور تاقیامت وہ مسجد ہی رہتی ہے، اگر چہ اسکی ہیئت بدل دی جائے یا چھت وغیرہ ڈھا دی جائے، کیونکہ چھت وغیرہ تو صرف اس لئے بنائی جاتی ہے تاکہ نماز پڑھنے میں کسی قسم کی کوئی دقت محسوس نہ ہو، گرمی اور سردی سے حفاظت ہو سکے ۔

شریعت اسلامیہ کا یہ رویہ رہا ہے کہ جب بھی کسی چیز ہیئت بدلی جاتی ہے خواہ وہ مجبوراََ تبدیل کی جائے یا جبرا تبدیل کی جائے، تو اس تبدیل ہیئت سے اس کی حیثیت نہیں بدلتی ۔

مثلاً : جب کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر طاقت نہیں رکھتا ہے اور وہ قیام و رکوع سے مجبور ہو کر بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو اب ہیئت نماز کی تبدیلی سے نماز کی حیثیت نہیں بدلے گی ، نماز تو نماز ہی رہے گی ، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ نماز کی ہیئت بدلنے سے نماز ہی نہیں ہو گی ، بلکہ نماز ہوجائے گی، معلوم ہوا کہ تبدیل ہیئت سے حیثیت نہیں بدلتی۔

اسی طرح اگر کوئی شخص وضوء پر قادر نہ ہو نے کی وجہ سے تیمم کرلے تب بھی اس کا وضوء مانا جائے گا اگرچہ وضوء کی ہیئت‌ بدل چکی ہے، کیونکہ کہ تبدیل ہیئت سے حیثیت نہیں بدلتی۔

اسی طر مسلمانوں کی ایک مقدس عبادت گاہ جسکا تذکرہ قرآن میں بھی موجود ہے ، جسے ہم‌ مسجد حرام کے نام سے جانتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن بھی کہتا ہے:

سُبۡحٰنَ الَّذِىۡۤ اَسۡرٰى بِعَبۡدِهٖ لَيۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ ….. الخ ۞

اگر مسجد حرام پر بھی غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ مسجد حرام کی بھی ہیئت بدلی گئی تھی ، اسے بت خانوں کا اڈا بنا دیا گیا تھا، تین سو ساٹھ سے بھی زائد بت اس مسجد میں رکھے گئے تھے جس کی وجہ سے اس مسجد کی ہیئت بدل دی گئی تھی لیکن پھر بھی وہ جو اسکی حیثیت ہے یعنی مسجد ہی کے نام سے جانی جاتی تھی نہ کہ بت خانے کے نام سے ۔ معلوم ہوا کہ تبدیل ہیئت سے حیثیت نہیں بدلتی ۔

ٹھیک اسی طرح آج بابری مسجد کی کی ہیئت بدل دی گئی ہے اور اسے بت خانے کی ہیئت دے دی گئی ہے، لیکن یاد رہے کہ تبدیل ہیئت سے حیثیت نہیں بدلتی، وہ بابری مسجد تھی، ہے، اور رہے گی ان شاء اللہ۔

اور جس طرح کعبة اللہ بت خانے کے دور سے گزر کر پوری دنیا میں اسلام کا مرکز بنا ، ان شاء اللہ بابری مسجد بھی بت خانے کے دور سے گزر کر اسلام کا‌ مرکز‌ بنے گا۔


 نوٹ: اس مضمون کو امام علی بن مقصود شیخ فلاحی نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like