Type to search

قومی

سی اے اے کے خلاف ربیحہ نے صدر جمہوریہ سے گولڈ میڈل لینے سے کیا انکار

پڈوچیری یونیورسٹی کی ایک طلبہ نے کانووکیشن تقریب میں گولڈ میڈل لینے سے کیا انکار، ربیحہ عبدالرحیم نے شہرتی قانون کے خلاف احتجاج میں ایسا کیا۔ وہ ماس کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ کی سال 2018 کی ٹاپر ہے۔


شہریت قانون کو لیکر ملک میں احتجاج جاری ہے۔ اس درمیان ماس کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ میں گولڈ میڈلسٹ پڈوچیری یونیورسٹی کی ایک طلبہ ربیحہ عبدالرحیم آج کل بحث میں ہے۔ ربحیہ عبدالرحیم نے کانووکیشن تقریب میں گولڈ میڈل لینے سے انکا کردیا۔ ربحیہ کا کہنا ہے کہ میں نے این آر سی اور شہرتی ترمیمی ایکٹ سی اے اے کے خلاف احتجاج کررہے طلبا کے لیے یکجہتی دیکھاتے ہوئے احتجاج میں ایسا کیا ہے۔

سینئر پولیس افسر نے آڈیٹوریم چھوڑنے کو کہا۔ ربیحہ
ربحیہ کا دعوی ہے کہ تقریب شروع ہونے سے پہلے ایک سینئر پولیس اہلکار نے انہیں آڈیٹوریم چھوڑنے کو کہا اور اس تقریب کے مہمان خصوصی صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند کے جانے کے بعد ہی اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ یہاں صدر جمہوریہ کے جانے کے بعد بھی طلباء کو سند دینے کا پروگرام جاری رہا تھا۔

حجاب پہننے کی وجہ سے اندر نہیں جانے دیا گیا ۔ ربیحہ
ربیحہ کو صدر جمہوریہ کے رہتے پروگرام میں کیوں نہیں جانے دیا گیا اسکی اصل وجہ سے ربیحہ بھی خود کو انجان بتاتی ہے۔ حالانکہ ربیحہ کو یہ بھی لگتا ہے کہ حجاب پہننے کی وجہ سے اسے صدر کے رہتے اندر نہیں جانے دیا گیا۔ کیرل سے تعلق رکھنے والی ربیحہ عبدالرحیم نے ماس کمیونیکشن مضمون میں ماسٹرز کی پڑھائی کی ہے۔

باہر کیا ہوا ہے اسکی معلومات نہیں ۔ اہلکار
طالبہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ڈگری لے لی ہے۔ لیکن شہریت قانون کے احتجاج میں مظاہرہ کررہے طلباء کے لیے یکجہتی بتانے کے لیے گولڈ میڈل لینے سے انکار کردیا ہے۔ حالانکہ یونیورسٹی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انہیں اسکی معلومات نہیں ہے کہ باہر کیا ہوا ہے۔

Tags: