Type to search

تلنگانہ

حکمت کے ساتھ شجاعت ، یہی وقت کی ضرورت 

ایوب خان

 

Ayub khan  از قلم :  ایوب خان

9395555500 واٹس اپ نمبر


سی اے اے ، ین آر سی اور ین پی آر کی مخالفت کا سلسلہ آخری مرحلے میں ہے ، جیسے جیسے ین پی آر کے جاری ہونے کے ایام قریب آتے جارہے ہیں اس رفتار کے مطابق ریاست میں کام نہیں ہورہاہے ، ریاست میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نامی ایک نمائند ہ تنظیم بنائی گئی ہے جس میں دانشوران ، علماء اور عمائدین کی بڑی تعداد ہے ، ان کی جانب سے اسی ہفتے ایک مشاورتی نشست کاآغاز کیا گیا تھا جس میں مختلف اضلاع کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا، لیکن وہاں مشورے لینے کے بجائے زیادہ تر روداد سنی اور سنائی گئی اوروہ بھی صرف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کی ہی ہے ۔ شاید انکی نظر میں ریاست کے مختلف اضلاع میں کام کرنے والی تنظیمیں و ادارے کام نہیں کررہے ہیں ۔

 وی دا پیوپل ، وی دا سٹیزن ،سٹیزن یونائیٹیڈ مومنٹ ، سوراج انڈیا ، سوراج جیسے 50 سے زائد ایسی تنظیمیں ہیں جو اپنے اپنے طورپر ین آر سی اور سی اے اے کی مخالفت میں کام کررہی ہیں لیکن مشاورتی نشست میں جس طرح سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا رویہ رہا وہ اس بات کی طرف اشارہ دے رہا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران ین پی آر کی مخالفت کے تعلق سے زیادہ اپنی کمیٹی کو اہمیت اور تقویت دینے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے ، اسٹیج سے بار بار اعلان ہورہاتھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اپنے اپنے علاقوں میں بنائیں ، وہاں مضبوط کریں ، دوسری تنظیموں اور جماعتوں کو اسی کے ماتحت لیں وغیر ہ وغیرہ۔ ریاست میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کے طورپر مسلم متحدہ محاذ بھی ہے جو اکثر الیکشن کے موقع پر اپنے وجود کا مظاہرہ کرتی رہی ہےاب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جو رویہ اختیار کیا جارہاہے وہ بھی محاذ کی طرح ہی دکھائی دے رہاہے ۔

 یقیناََ اس میں دو رائے نہیں ہے کہ آج متحد ہوکر کام کرنا ہے لیکن متحد ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب ایک ہی  چھتری میں پناہ لیں، اتحاد کا مطلب یہ ہونا چاہئے کہ ادارے ، بینر اور تنظیمیں بھلے ہی الگ الگ کیوں نہ ہوںلیکن مقصد، کام ، نشانہ اور اغراض ایک ہی ہوں ۔ بنگلور میں منعقد ہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک روزہ مشاورتی نشست کولے کر ریاست کے مختلف اضلاع سے جو لوگ آئے ہوئے تھے انکے سامنے کئی امیدیں تھیں وہ سمجھ رہے تھے کہ چونکہ یہ کل ریاستی نشست ہے اور اس نشست میں ماہرین و دانشوران بھی شامل ہورہے ہیں وہ ایسے فیصلے لیں گے جس کی وجہ سے ایوان اقتدار گونج اٹھیں گے لیکن یہاں حسب روایت احتیاط برتنے ، بھائی چارگی قائم کرنے ، غیروں کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور ین پی آر کی مخالفت کرنے کا اعلان ہوا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا جوائنٹ ایکشن کمیٹی ساری ریاست کی عوام کو ایک دن کے لئے بنگلور چلو مہم کےلئے مدعو کرتی، پیدل مارچ کا اعلان کرتی ، سڑکیں جام کرنے کا فیصلہ کرتی ، ودھان سودھا کے گھیرائو کا اعلان کیا جاتا یا کم از کم مقامی کلکٹریٹ کا گھیرائو کرنے کا فیصلہ لیا جاتا ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ صرف اور صرف حکمت کی باتیں ہوتی رہیں ۔

 بالی ووڈ کی مشہور فلم ہے جس میں فلم کا ہیرو سنی دیول عدالت میں ہورہی ناانصافی کو لے کر چلا کر کہتا ہے کہ تاریخ پر تاریخ ۔ تاریخ پہ تاریخ ، جج صاحب عدالت فیصلہ کرنے بیٹھی ہے یا تاریخیں دینے بیٹھی ہے ۔ اسی طرح کے حالات ہماری ان تنظیموں کے ہیں جو ین پی آر اور سی اے اے کے خلاف چل رہی تحریک پر ٹھوس اور جارحانہ فیصلےلینے کے بجائے حکمت پہ حکمت ، حکمت پہ حکمت کا دعویٰ کررہے ہیں ۔ غور طلب بات یہ کہ   جنوبی ہندوستان میں جو تحریکیں چل رہی ہیں ان تحریکوں میں مسلمان 90 فیصد اپنا احتجاج درج کروارہے ہیں لیکن 10 فیصد غیر ہی ان تحریکوں سے جڑے ہوئے ہیں ان میں سے بعض اس وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ ہیں کیونکہ انہیں اسٹیج مل رہاہے ، مائک مل رہاہے اگر یہ بھی نہ ملتا تو وہ ان احتجاجات کاحصہ نہیں بنتے ۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ ہم اب کہہ رہے ہیں کہ غیر مسلمین کے ساتھ تعلقات بحال کیے جائیں ، ان سے بات چیت کی جائے لیکن اس سے پہلے کب مسلمانوں نے دلتوں پر ہونے والے حملوں کی مخالفت میں آواز اٹھائی تھی ۔

کن کن جماعتوں نے دلتوں ، عیسائیوں اور پسماندہ طبقات پر ہونے والے معاملات پر احتجاج کیا تھا، پہلو خان اور اخلاق کی موت پر ہم نے احتجاج کیا لیکن پولیس افسر سبودھ کمار جو گائے کے نام پر مارا گیا تھا اسکی ہلاکت کی کسی نے مذمت نہیں کی۔ کسی نے پلوامہ کے نام پرسڑکوں پر احتجاج نہیں کیا،کسی مسجدکےاحاطےمیں ہندوستانی فوج میں مرنے والے شہداء کے لئے خراج عقیدت پیش نہیں کیا مگر آج جب ہمارے سروں پر تلواریں لٹک رہی ہیں تو ہم دلتوں کو بھی بلا رہے ہیں ، عیسائیوں کو بھی دعوت دے رہے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ ہماری کچھ تنظیمیں ایسے لوگوں کے فیصلوں کا انتظار کررہی ہیں جوکبھی آر یس یس کے خیموں میں گھس رہے ہیں تو کبھی ین پی آر اور سی اے اے کو صحیح ٹہرارہے ہیں ۔

کبھی حکمت کے نام پر افطار کی دعوتیں کھلارہی ہیں تو کبھی بھائی چارگی کے نام پر انکے اسٹیجوں پرچڑھ کر مسلمانوں کی توہین کررہے ہیں ۔ جامع ہو یا جے ین یو ، علی گڑھ ہو یا ڈی ، شاہین باغ ہو یا گھنٹہ گھر کا باغ یہ تمام احتجاج جارحانہ طریقے پر کئے جارہے ہیں نہ کہ حکمت کے نام پر ۔ جن لوگوں کو عہدے ، اقتدار اور شہرت پیاری ہے وہ اب بھی حکمت کا دامن پکڑے رہیں گے لیکن جسے آزادی پیا ری ہے وہ کھل کر میدان میں اتر آئیں گے ۔ اب حکمت کے ساتھ ساتھ شجاعت کا جذبہ بھی ہونا چاہئے اور اگر یہ جذبہ نہ ہوتوکم ازکم دوسروں کی تحریکوں میں ٹانگیں ہلانا چھوڑ دینا چاہئے ۔

 ین آر سی اور سی اے اے کی تحریک حکومت کی مخالفت میں ہو رہی ہے نہ کہ حکومت کی خوشنودی کے تحت کا م کرنے ۔ آج امت مسلمہ کا ہر فرد اس قدر بے چین ہے کہ کوئی تو ہماری رہبری کرے اور ان حالات میں ساتھ دے ۔ لیکن یہاں رہبری کی آڑ میں رہزنی کی جارہی ہے جو پوری ملت کو تباہ وبرباد کردے گی ۔ اس مضمون سے بہت سے لوگ ناراض ہوسکتے ہیں لیکن ہر ایک کو خوش کرنا قلمکار کی نشانی نہیں ہے بلکہ منافق اور کوٹھے پر ناچنے والی کی نشانی ہوتی ہے ۔