Type to search

صحت

سردیوں میں گرم پانی پینے کے حیرت انگیز فائدے

گرم پانی پینے کے فائدے

نیم گرم پانی پینے سے جسم کی گندگی آسانی سے باہر نکل جاتی ہے۔
گرم پانی پینے سے جسم ہائیڈریٹ رہتا ہے۔
نیم گرم پانی جسم کے لیے دوا کی طرح کام کرتا ہے۔


ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) گرم پانی پینے کے فائدے : پانی زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے یہ بات تو سبھی جانتے ہیں- اگر یہ کہا جائے کہ بنا پانی زندگی ممکن ہی نہیں ہ تو یہ بات 100 فیصدی سچ ہے-

انسان کے جسم کے لیے پانی بہت ذیادہ ضروری ہے اور اسکی کمی کو کسی بھی چیز سے پورا نہیں کیا جاسکتا ہے- پانی کی کمی کی وجہ سے انسان کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

سائنسی طور پر بھی اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ خالی پیٹ يا نہار منہ گرم پانی پینا صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ روز صبح اٹھ کر نيم گرم پانی پینا ایک پرانا عمل اور روایت ہے۔

ڈاکٹرس کے مطابق صحت مند رہنے کے لیے پانی پینا بہت ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص نیم گرم پانی پیتا ہے تو یہ جسم کے لیے دوا کا کام کرتا ہے۔ نیم گرم پانی پینے سے جسم دن بھر تروتازہ رہتا ہے۔ یہ جسم سے بہت سی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔

اگر روز صبح گرم پانی پینے کے اس عمل کو زندگی میں عادت بنا لینا، متعدد خطرناک بیماریوں سے بچاؤ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

پرانے زمانے کے طبیب بھی صبح کے ناشتے سے پہلے گرم پانی پینے پر بہت زور دیتے تھے۔

نیم گرم پانی کے فوائد: روزآنہ اپنے دن کی شروعات گرم یا گنگنے پانی (نیم گرم پانی) کے ساتھ کرنے کی صلاح دی جاتی ہے-

گرم پانی پینے کے فائدے کئی ہیں- لیکن اس سب سے ذیادہ ضرورت تب بڑھ جاتی ہے جب سردیاں شروع ہوتی ہے-
ٹھنڈ کے موسم میں گرم پانی کے صحت مند فائدے اور بھی بڑھ جاتے ہیں- سردیوں میں باہر کا ماحول ٹھنڈا ہوتا ہے،

ایسے اپنے جسم اور ماحول کے درمیان توازن بنانے کے لیے ہمیں اپنے جسم کو گرم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے-
پانی کا درجہ حرارت آپ کے جسم کے عام درجہ حرارت جتنا ہونا چاہیئے اس لیے، گنگنا یا گرم پانی وہیں ہے جسے ہم عام طور پر باڈی کو ڈیٹاکس کرنے یا گلے کی خارش کو دور کرنے کے لیے پیتے ہیں-

کئی لوگ گنگنا پانی پینے کے صحت مند فوائد کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں- سردیوں میں گنگنا یا گرم پانی پینے کی صلاح دی جاتی ہے، لیکن کیا آپ اسکے فائدوں سے واقف ہے-

دن کی شروعات کرنے کے لیے شاندار ڈرنک
گرم پانی پینے سے انسان کے ہاضمے کا عمل متحرک ہوتا ہے اور اس میں بہتری ہوتی ہے- پانی کی مدد سے ہی انسان کا ہاضمہ چلتا ہے-

جب پانی پیٹ اور آنتوں میں جاتا ہے تو اس سے نظام انہضام بہتر طریقہ سے ہائیڈریٹ ہوتا ہے جس سے فضلہ کو آسانی سے ختم کرپاتا ہے-

ایک گلاس گرم پانی کے ساتھ اپنی خوشگوار صبح کی شروعات کرنا فائدے مند ہے- یہ آپ کے جسم کی میٹابولک ریٹ کو بہتر کرتا ہے جس سے ہاضمے میں مدد ملتی ہے-

ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں گرم پانی ذیادہ فائدے مند ہے- یہ ایک شاندار جلاب کے طور پر کام کرتا ہے جو قبض اور دیگر متعلقہ شکایتوں جیسے کہ بواسیر کو کم کرتا ہے جو سردیوں میں بڑھ جاتے ہیں-

بلڈ سرکولیشن کو کرتا ہے بہتر
گرم پانی خون کی نالیوں کو متحرک کرتا ہے جس سے سرکولیشن میں سدھار ہوتا ہے-

سردیوں میں بلڈ سرکولیشن متاثر ہوسکتا ہے کیونکہ نسے ٹھنڈ کی وجہ سے سکڑی ہوسکتی ہے- ایسے میں گرم پانی بلڈ فلو (خون کی روانی) کو بہتر بنانے میں کافی فائدے مند ہوسکتا ہے-

جسم کے درد کو دور کرنے میں مددگار
گرم پانی پٹھوں کے درد، سر درد، ماہواری کے درد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے کیونکہ یہ ہمارے جسم کے پٹھوں کو سکون کرکے گرمی فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے- انہیں آرام دیتا ہے اور درد کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے-

وزن کم کرنے میں موثر
کئی تحقیقوں نے اس خیال کی تائید کی ہے کہ گرم پانی پینے سے آپ کے میٹابولزم کو بڑھاوا ملتا ہے، جو چربی کو توڑنے میں مدد کرتا ہے-

گرم پانی پینے سے صحت مند طریقے سے وزن کم کرنے کو بڑھاوا مل سکتا ہے- ایسے میں وزن کم کرنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کو روزآنہ اپنے دن کی شروعات گرم پانی سے کرنی چاہیئے-

سردیوں میں سردی زکام کو رکھتا ہے دور
نیم گرم پانی پیتے وقت اسکی گرمی سے جو بھانپ نکلتی ہے اس سے بند ناک سے چھٹکارا ملتا ہے- پانی پیتے وقت پانی کی گلاس کو پکڑ کر پانی کی بھانپ سے گہری سانس لے اس سے سائنس سے ہونے والے سردرد میں چھٹکارا ملے گا-

گرم پانی سے سردی- کھانسی زکام اور دیگر انفیکشن کی شدت کم ہوجاتی ہے کیونکہ گرم پانی بیکٹیریا سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے-

گرم پانی کی بھانپ سبھی قسم کی سردی اور الرجی اور سائنس کی شکایت کے لیے ایک شاندار علاج ثابت ہوسکتا ہے-

چمکدار جلد کے لیے فائدے مند
روزانہ گرم پانی کا استعمال آپ کی جلد کو نمی بخشتا ہے- گرم پانی کی بھانپ ایک طاقتور کلینزر کے طور پر کام کرتی ہے جو آپ کی جلد میں ایک قدرتی چمک جوڑ کر چھیدوں کو صاف کرنے میں مدد کرتا ہے-

قبض سے نجات
اگر آپ ٹھنڈے کی جگہ گرم پانی پیتے ہیں تو اس سے آنتوں کو سکرنے میں مدد ملتی ہے- یہ تب ممکن ہے جب انسان کی آنتوں میں پھنسی پہلے سے بیکار چیز آسانی سے باہر نکل پاتی ہے- اگر آپ کو قبض ہورہا تو ایسے میں صرف روز صبح گرم پانی پینا کافی فائدے مند ہوسکتا ہے-

ہائیڈریٹ رکھنے میں مدد
اگر آپ بات کریں ہائیڈریٹ ہونے کی تو آپ کو بتادیں کہ گرم پانی، ٹھنڈے پانی یا کمرے کے درجہ حرارت کے پانی سے الگ نہیں ہے-

یہ مانا جاتا ہے کہ ایک بالغ کو دن میں کم سے کم 3-2 لیٹر پانی پینا چاہیئے- اگر آپ اپنے دن کی شروعات گرم پانی پی کر کرتے ہیں تو سوتے وقت بھی گرم پانی پیتے ہیں تو اس سے آپ خود کو ہائیڈریٹ رکھ پائیں گے-

پینے کے لیے پانی اتنا گرم ہو کہ آرام سے پیا جا سکے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ گرم پانی پینے کے پونے گھنٹے بعد تک کچھ اور کھانا پینا نہيں چاہيے اور تینوں وقتوں کے کھانے کے کم ازکم دو گھنٹے بعد تک بھی پانی نہ ہی پیا جائے۔

جانتے ہیں ٹھنڈا پانی پینے کے نقصانات
ٹھنڈا پانی پينے کے بہت سے نقصانات ہيں۔ ٹھنڈا پانی پینے سے زکام اور کھانسی کی شکایت ہوجاتی ہے جس کی وجہ پانی اور ہمارے گلے کے درجہ حرارت میں فرق ہے۔

ہم جیسے ہی ٹھنڈا پانی پیتے ہیں تو اس فرق کی وجہ سے ہمارا گلا اور چھاتی جکڑ جاتی ہے لیکن اگر گرم پانی پیا جائے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا۔


(نوٹ: صلاح سمیت یہ مضمون صرف عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے طبی رائے کا متبادل نہیں ہے، مزید معلومات کے لئے ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اردو پوسٹ اس معلومات کے لیے ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ )