Type to search

اسپورٹس

محمد اظہر الدین : آج تک نہیں معلوم کہ مجھ پر پابندی کیوں لگی تھی

محمد اظہر الدین

اسپورٹس ڈسک،30جولائی (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تا حیات پابندی سے نکل کر محمد اظہر الدین کا کرکٹ لائف اب معمول ہوگئی ہے۔ لیکن ہندوستان کے سابق کپتان کا کہنا ہے کہ انہیں حقیقت میں نہیں پتہ کہ ان پر پابندی کیوں لگائی گئی۔ ڈسمبر 2000 میں بی سی سی آئی نے میچ فکسنگ میں شامل ہونے کو لیکر اظہر پر تاحیات پابندی لگا دی تھی۔
لمبی قانونی لڑائی کے بعد آندھراپردیش ہائی کورٹ نے سال 2012 میں وہ پابندی واپس لی۔ کرکٹ پاکستان ڈاٹ کام کو دیئے انٹرویو میں اظہر نے کہا، جو کچھ ہوا، اس کے لیے میں کسی کو قصور وار نہیں ٹہرانا چاہتا۔ مجھے نہیں پتہ کہ مجھ پر پابندی کیوں لگائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا، لیکن میں نے لڑنے کا فیصلہ کیا اور مجھے خوشی ہے کہ 12 سال بعد مجھے پاک صاف قرار دیا گیا۔ حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن (ایچ سی اے) کا صدر بننے اور بی سی سی آئی کی سالانہ جنرل اجلاس میں حصہ لینے سے مجھے بہت اطمینان ملا۔

ہندوستان کے لیے 99 ٹیسٹ میں 6125 رن اور 334 ونڈے میں 9378 رن بنانے والے اظہر کے نام پر 2019 میں راجیو گاندھی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کے ایک اسٹینڈ کا نام رکھا گیا۔

اظہر نے کہا کہ انہیں ٹیسٹ میچوں کا 100 واں ٹیسٹ پورا نہیں کرپانے کا کوئی ملال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، میرا ماننا ہے کہ جو قسمت میں ہوتا ہے، وہی ملتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ 99 ٹیسٹ کا میرا ریکارڈ ٹوٹے گا کیونکہ اچھا کھلاڑی تو 100 سے ذیادہ ٹیسٹ کھلے گا ہی۔

انہوں نے بتایا کہ کیسے پاکستان کے بلے باز ظہیر عباس نے انہیں خراب فارم سے نکلنے میں مدد کی اور کیسے بعد میں انہوں نے اسی طرح یونس خان کی مدد کی۔ محمد اظہر الدین نے کہا،

مجھے لگا تھا کہ 1989 کے پاکستان دورے کے لیے میرا انتخاب نہیں ہوگا کیونکہ میں بہت خراب فارم میں تھا۔

مجھے یاد ہے کہ کراچی میں ظہیر عباس بھائی ہماری پریکٹس دیکھنے آئے۔

انہوں نے پوچھا کہ میں جلدی آوٹ کیوں ہورہا ہوں۔

میں نے مسئلہ بتایا تو انہوں نے مجھے گرپ تھوڑی بدلنے کو کہا،

میں نے وہی کیا اور رن بننے لگے۔

Tags:

You Might also Like