Type to search

بین الاقوامی

مسلم ہونے کی وجہ سے باڈی ۔ بلڈنگ مقابلے میں نہیں پہنی بکنی

ڈھاکہ،یکم جنوری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) اتوار کو بنگلہ دیش میں اس وقت نئی تاریخ بن گئی۔ جب پہلی بار اس ملک میں خواتین باڈی۔ بلڈنگ مقابلے کا انعقاد کیا گیا۔ ڈھاکہ میں منعقد اس مقابلے کو 19 سال کی طالب علم Awhona Rehman  اہونا رحمان نے جیتا۔ دلچسپ یہ ہے کہ اہونا رحمان بنا مسلز (پٹھوں) کو دیکھائے ہی مقابلہ جیت گئی۔

دراصل بنگلہ دیش مسلم اکثریتی ملک ہے، جسکی وجہ سے پہلی خاتون باڈی۔بلڈنگ مقابلے میں بکنی نہیں پہننے کا اصول تھا۔ ڈریس کوڈ کے مطابق سبھی 29 خواتین کنٹیسٹنٹ کو اپنا جسم ڈھک کرہی مسلز پوز کرنے تھے۔ جس میں اہونا رحمان کی جیت ہوئی۔ باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں حصہ لینے والی لڑکیوں کو اپنی پسند کا لباس پہننے کی اجازت دی گئی جبکہ حصہ لینے والی لڑکیوں کے مختصر لباس کی شرط بھی ختم کی گئی تھی جس کے بعد زیادہ تر حصہ لینے والی لڑکیاں مکمل لباس پہن کر شریک ہوئیں۔

تین دن تک چلی خواتین باڈی۔بلڈنگ مقابلے کو دیکھنے کے لیے ڈھاکہ میں سینکڑوں لوگ جمع ہوئے۔ اپنی جیت کے بعد اہونا رحمان بہت خوش نظر آئی۔ انہوں نے اپنی جیت پر خوشی جتاتے ہوئے کہا، میں نے اسکے لیے کافی محنت کی تھی۔ چیمپئین بن کر خوش ہوں۔ میرے دماغ میں کبھی یہ بات نہیں آئی کہ اپنا جسم دیکھانے کے لیے میری تنقید ہوسکتی ہے۔ ہمیں مقابلے کے لیے خصوصی ڈریس کوڈ دیا گیا تھا۔ فاتح رحمان دیگر کنٹیسٹنٹ نے اسٹیج پر  لیگنگس کے ساتھ پوری طرح سے جسم کو ڈھکنے والی ٹی۔شرٹ پہن رکھی تھی۔ رحمان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میری محنت رنگ لائی اور میں فاتح بنی۔

بتادیں کہ رحمان کے بھائی بھی ایک باڈی بلڈر ہے، جو خود کا جم چلاتے ہیں، انہوں نے اہونا کو باڈی بلڈر بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔ اہونا نے اپنی جیت کا سہرا اپنے بڑے بھائی کو ہی دیا۔ اہونا کا کہنا تھا کہ مکمل لباس پہن کر شرکت کرنے کی وجہ سے اب زیادہ لڑکیاں اس چیمپئن میں حصہ لیں گی اور وہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔ بتادیں کہ ہندوسان سمیت دنیا بھر میں خواتین باڈی بلڈنگ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جن میں خواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ سوشل میڈیا ر کئی خواتین باڈی بلڈرس ہے جنہیں لاکھوں لوگ فالو کرتے ہیں۔