Type to search

قومی

اسد الدین اویسی نے شہریت ترمیمی قانون کو دیا چیلنج، سپریم کورٹ میں دائر کی درخواست

نئی دہلی،14ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے شہریت ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اب تک کل ملا کر 13 تنظیموں نے اس نئے قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ اویسی نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان میںاس طرح کا قانون بناکر آپ جناح کو زندہ کررہے ہیں۔

اسدالدین اویسی نے کہا، مولانا عبدالکلام آزاد نے کہا تھا کہ میں ایک ہندوستانی مسلمان ہوں اور میرے مذہب کا اس ملک سے ایک ہزار سال کا رشتہ ہے۔ اور ہندوازم کا چار ہزار ہے تو وہ رشتہ کہاں پر چلا گیا۔ اویسی نے کہا کہ آپ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر پیغام دے رہے ہیں کہ ہم مسلمانوں ہے اس لیے آپ کو اس میں (سی اے بی) میں نہیں لائیں گے۔ آخر آپ ہندوستان کی سب سے بڑی پنچایت سے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

شہریت قانون کے مطابق 31 ڈسمبر 2014 تک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے ہندوستان آئے ہندو، سکھ، بدھ ، جین ، پارسی اور عیسائی برادری کو غیر قانونی نہیں مانا جائے گا اور ہندوستان کی شہریت دی جائے گی۔ صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کوند نے جمعرات کی رات شہریت ترمیمی بل 2019 کو اپنی رضامندی دی اور اسکے ساتھ ہی یہ قانون بن گیا۔

Tags:

You Might also Like