کیوں آپ کو پیریڈس میں پیڈ کے بجائے کرنا چاہیئے مینسٹرول کپ کا استعمال

مینسٹرول کپ یا ماہواری کپ

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) پیریڈس خواتین کے لیے کبھی بھی اچھا وقت نہیں ہوتا اور تجربہ کو آرام دہ ، صاف اور پریشانی سے پاک بنانے کے لیے صحیح سینٹری پروڈکٹ کا انتخاب اہم ہے-

لڑکیوں کے لیے پیریڈس (ماہواری) میں درد ہی ایک فکر نہیں ہوتی بلکہ پیریڈس کے دھبوں سے بچنا اور بار-بار بدلنا بھی پریشانی کا سبب ہوتا ہے-

 

پیریڈس کی بات آتے ہی سینٹری نیپکن اور ٹیمپون دماغ میں گھومنے لگتے ہیں۔ زیادہ فلو ہے تو پیڈ بدلنے کا ٹینشن۔ داغ لگ جانے کا ٹینشن۔ اوپر سے پیڈس ختم ہوجانے پر بار۔بار مارکیٹ جانے کا الگ ٹینشن۔

ہر مہینے اسکا ایک الگ ہی بجٹ بناکر چلنا پڑتا ہے۔ لیکن اب بازار میں مینسٹرول کپ کے طور پر ہر مہینے کے اس خرچ سے بچنے کا ایک حفظان صحت کا طریقہ موجود ہے۔ اسکی معلومات اب بھی بہت سی خواتین کو کم ہی معلوم ہے۔

ذیادہ تر لڑکیاں حیض یا کہیں پیریڈس میں معمولی پیڈس کا استعمال کرتی ہے- کپڑا استعمال کرنے سے بہتر پیڈ کا استعمال ہے تو وہیں پیڈ سے بھی بہتر انتخاب ہے ماہواری کپ –

مینسٹرول کپ ایک ربڑ، سلیکون یا لیٹکس سے بنا ایک چھوٹا، لچکدار، فینیل ، یعنی کون نما کپ ہوتا ہے، جسے خواتین اپنی اندام نہانی میں ڈالتی ہیں۔

آپ کو اسے استعمال کرنے پر بار بار پیڈ بدلنے کی جھنجھٹ نہیں ہوتی، گیلاپن محسوس نہیں ہوتا، داغ دھبے نہیں لگتے اور پیڈ کی طرح کھجلی نہیں ہوتی- ساتھ ہی ، یہ ماحول کے لیے بھی فائدے مند ہے کیونکہ آپ ایک ماہواری کپ کو سالوں تک استعمال کرسکتے ہیں-

کئی لڑکیاں پیریڈس میں پیڈ کے بجائے ماہواری کپ کا استعمال کرنے لگی ہے اور شاید اب وقت آگیا ہے کہ آپ بھی اس فہرست میں شامل ہوجائے-

 

مینسٹرول کپ (ماہواری کپ) استعمال کرنے کے چند فائدے
آپ کو بار بار بدلتے رہنے کی مشکل نہیں ہوتی- مینسٹرول کپ کو 12-11 گھنٹے آرام سے استعمال کیا جاسکتا ہے-
زیادہ تر پیڈس میں خوشبو ہوتی ہے جو آپ کی اسکین کو اریٹیٹ کرسکتی ہے، مینسٹرول کپ سٹیرلائز ہوتے رہتے ہیں جس سے اسکین اریٹیٹ (جلن) نہیں ہوتی-

پیڈس کی وجہ سے پیریڈس کے دوران جو بدبو آتی ہے وہ مینسٹرول کپ استعمال کرنے پر نہیں آتی کیونکہ پیریڈس بلڈ جسم کے اندر ہی رہتا ہے اور ہوا کے رابطے میں نہیں آتا-

ماہواری کپ پیڈس یا ٹیمپون سے 5 گنا زیادہ بلڈ سوکھتے (جذب) ہے- پیریڈ فلو کے کسی بھی اسٹیج میں آپ کو کپ پر توجہ نہیں دینا پڑا جبکہ پیڈ کا استعمال آپ کو اپنے ہلکے یا بھاری فلو کے مطابق کرنا ہوتا ہے-

لڑکیاں اچھی طرح جانتی ہے کہ پیڈس سے جب انٹیمیٹ ایریا کی جلد رگڑی جاتی ہے تو کتنا درد اور پریشانی ہوتی ہے- وہیں مینسٹرول کپ سے مسئلہ دور ہوجاتا ہے-

آپ مینسٹرول کپ استعمال کرنے پر بنا دورائے سوئمنگ کرنے جاسکتی ہے، ایک بار کپ کی عادت لگ جانے پر جم یا کھیل کھود میں بھی آپ کو پیریڈس کے دوران آرام دہ محسوس ہوگا-

مینسٹرول کپ شروع – شروع میں استعمال کرنے پر مشکل لگ سکتی ہے لیکن عادت پڑ جانے پر آپ پھر کبھی پیڈ استعمال نہیں کرنا چاہیں گی-

 

مینسٹرول کپ کےاندام نہانی کے اندر کھو جانے کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے-

مینسٹرول کپ اندام نہانی کی نالی میں ڈالے جاتے ہیں اور اوپری سرے پر واقع رحم کا گریوا میں ایک چھوٹا سا اوپننگ ہوتا ہے جو اسے جسم کے دیگر حصوں کے اندر جانے ے روکے گا-

اسکے علاوہ کپ می ںایک تنا ہوتا ہے جو چپک جاتا ہے اور ڈالنے کے بعد اسے ڈھونڈنا اور نکالنا آسان ہوجاتا ہے-
ہر بار جب وہ پیشاب کرنے یا جنابت کے لیے واش روم کا استعمال کرتے ہیں تو ماہواری کپ کو ہٹانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے-

خون کے ساتھ پیشاب نہیں کیا جائے گا اور آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ تھوڑا آگے جھوک کر پیشاب کریں-

حالانکہ یہ کچھ لوگوں کے لیے واش روم کا استعمال کرتے وقت اسے ہٹانے کے لیے زیادہ آرام دہ آپشن کی طرح لگ سکتا ہے، کوئی اسے خالی کرنے اور دھونے کے بعد اسے پھر سے لگا سکتا ہے-

ماہواری کپ کا خواتین میں ورجینٹی کھونے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ورجینٹی کھونے کا مطلب ہے کسی کے ساتھ جنسی تعلق بنانا۔
باقاعدہ ماہواری سائیکل کے لیے ماہواری کپ کا استعمال کرنے کا مطلب کپ کے ساتھ جنسی تعلق نہیں ہے۔


(نوٹ: صلاح سمیت یہ مضمون صرف عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے طبی رائے کا متبادل نہیں ہے، مزید معلومات کے لئے ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اردو پوسٹ اس معلومات کے لیے ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ )