اردو میں سائنس کی تدریس کے روشن امکانات

اردو یونیورسٹی میں سائنس کی تدریس پر ورکشاپ۔ پروفیسر ایوب خان اور پروفیسر رحمت اللہ کی مخاطبت


حیدرآباد، 24 جنوری(پریس نوٹ)سائنس کی بہتر تفہیم کے لئے تمام سطحوں پر مادری زبان اردو میں اس کی تدریس کا انتظام ہو نا چا ہیے۔اردو ایک شیریں زبان ہے اور اس میں سائنس کی تدریس کے امکانات روشن ہیں ۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایوب خان نائب شیخ الجامعہ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے یہاں آج عملی کام کے ذریعہ سائنس کی تدریس پر منعقدہ ورکشاپ میں کیا۔ ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد مرکز پیشہ ورانہ فروغ برائے اساتذہ اردو ذریعہ تعلیم نے کیا جس میں اردو ذریعہ تعلیم سے منسلک سائنس کے اساتذہ نے شرکت کی۔ پروفیسر ایوب خان نے کہاکہ مادری زبان میں سائنس کی تدریس سے تشکیل ِ علم میں آسانی ہو تی ہے ،البتہ سائنس کی تکنیکی اصطلاحات کا مشکل اردو متبادل دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

اس موقع پر پروفیسر ایس ایم ر حمت اللہ، کار گزار رجسٹرار نے کہا کہ سائنس کی تدریس نہایت ہی آسان طریقے سے ہو نی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علوم کا تعلق انسانی رویہ سے ہے اُسے سمجھنا ضروری ہے۔ بغیر مشاہدہ کے ہم ٹھوس نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتے ۔اس موقع پر پروفیسر نوشاد حسین،ڈین، اسکول برائے تعلیم و تربیت نے کہا کہ عملی کام کے ذریعہ سائنس کی تدریس کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے طلبا میں سائنسی مزاج کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سائنس علم کا ذخیرہ ہے اس ذخیرہ تک پہنچنے کے لئے بہت سے طریقے اپنائے جا سکتے ہیں بطورِ خاص سائنسی ٹولس کا استعمال بچوں کے لئے مفید ہو گا ۔

ڈاکٹر رضوان الحق انصاری، اسسٹنٹ پروفیسر طبیعات نے تمام شرکا کا خیر مقدم کیا اور ورکشاپ کا تعارف پیش کیا۔ اجلاس کی کاروائی ڈاکٹر افروز عالم، اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ تعلیم و تربیت نے چلائی اور پروفیسر محمد عبدالسمیع صدیقی،ڈائرکٹر، سی پی ڈی یو ایم ٹی نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔ قبل ازیں ڈاکٹر عاطف عمران کی تلاوت قرآن سے پروگرام کا آغاز ہوا۔