بیڑی مزدور کی بیٹی ہاریکا نے یوٹیوب سے کی میڈیکل داخلے کی تیاری

کے کویتا اور ہاریکا

حیدرآباد، 10 نومبر (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) کہتے ہیں محنت کبھی خالی نہیں جاتی، محنت کا پھل ضرور ملتا ہے، سچی لگن اور محنت سے کچھ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے- بس حاصل کرنے کی نیت ہونی چاہیئے، لوگ صحیح تو کہتے ہیں کہ امید پر دنیا پر دنیا قائم ہے۔

ایسا ہی ایک واقع تلنگانہ کی بیٹی ہاریکا نے اپنی محنت اور سے کر کے دیکھایا ہے- ہاریکا کی ایک غریب خاندان سے ہے اور والدہ بیڑی کارخانہ میں مزدور کا کام کرتی ہے-

ہاریکا کی والدہ اکیلی ماں ہے، سنگل مدر کے لیے بچے کی پرورش آسان نہیں ہوتا، ہاریکا نے اپنی والدہ کی اس مجبوری کو سمجھا اور اپنی لگن سے میڈیکل کے داخلے کا امتحان پاس کیا-

سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہاریکا نے میڈیکل داخلے کی تیاری کے لیے کوئی ٹیوشن لیا نہ ہی کوچنگ لی، ہاریکا نے یوٹیوب سے میڈیکل داخلے امتحان کی تیاری کی-

جہاں بچے یوٹیوب دیکھ کر بگڑ رہے ہیں وہیں ہاریکا نے ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے نیٹ یو جی امتحان پاس کیا ہے-

ہاریکا کی اس کہانی کو سابق ایم پی اور ٹی آر ایس لیڈر کے کویتا نے ٹیوٹ کرکے بتایا ہے، کویتا نے ہاریکا اور اسکی والدہ سے ملاقات کرکے میڈیکل کالج کی فیس کی پہلی قسط دیتے ہوئے انکی حمایت کی-

 

ہاریکا نے یوٹیوب ویڈیو کے ذریعہ سے میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سیٹ حاصل کی ہے- ہاریکا نے اس سال کے نیٹ امتحان میں آل انڈیا سطح پر 40,958 ہزار رینک حاصل کیا اور ریاستی سطح پر انکا رینک 700 تھا-

 

ایم ایل سی کلواکنٹلا کویتا نے اپنے ٹیوٹ میں ہاریکا اور انکے خوابوں کی حمایت کرتے ہوئے ٹیوٹ کیا، خواب دیکھنے کی ہمت کریں اور تب تک کام کرنا بند نہ کریں جب کہ آپ انہیں حاصل نہیں کرلیتے-

 

یہ ہاریکا کی کہانی ہے- جس نے یوٹیوب ویڈیو کے ذریعہ سے ایم بی بی ایس کے امتحان پاس کیا اور شاندار مظاہرہ کیا- میں نے ان سے اور انکی والدہ سے ملی اور انکے خوابوں کو اپنا سپورٹ دیا، اسکی فیس کی پہلی قسط-

 

ہاریکا سے آج کل کے نوجوانوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے، جو سوشل میڈیا جیسے ہتھیار یوٹیوب کو اپنی کامیابی ہتھیار بنایا۔ نوجوان بس اپنا ویڈیو بنا کر ڈالنے اور کرتب بازی کرنے میں لگے ہیں، اگر ہاریکا کی طرح پڑھنے میں ذہن اور محنت لگائے تو کامیابی انکے بھی قدم چومے گی۔