چین نے 5 لاکھ  مسلم بچوں کو بورڈنگ اسکولوں میں بھیجا، والدین کو ڈیٹینشن کیمپوں میں رکھا

بیجنگ،30ڈسمبر(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) پہلی کلاس میں پڑھنے والی اس چھوٹی بچی کے سبھی دوست اس سے بہت پیار کرتےہیں وہ بہت اچھی طالب علم ہے۔ لیکن اسکے بعد بھی وہ روتی نظر آتی ہے۔ اسکی ٹیچر کو بھی اس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اسے اپنے والدین سے الگ رہنا ہوگا۔ یہ حالات چین کے صوبہ ژنگیانگ کی ہے۔ جہاں لاکھوں مسلم بچوں کو حکومت نے بورڈنگ اسکولوں میں رکھا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کےمطابق بچی کے والد کاانتقال ہوچکا ہے۔ جبکہ ماں کو ڈیٹینشن کیمپ میںبھیجا گیا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ نے  بچی کو دیگر رشتہ داروں کے پاس بھیجنے کے بجائے حکومت کی طرف سے چلنے والے بورڈنگ اسکول میں بھیجا۔ چین کے ژنگیانگ صوبے میں ایسے سینکڑوں بورڈنگ اسکول کھلے ہیں۔ جن میں مسلم بچوں کو بھی رکھا جارہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاکھوں اویغور اور قزاک مسلمانوں کو ڈیٹینشن کیمپس میں رکھا گیا ہے، جبکہ انکے بچوں کو بورڈنگ اسکلوں میں بھیجا گیا ہے۔ ایسے میں بچوں کی تعداد قریب 5 لاکھ ہے۔  مسلم آبادی کے درمیان مبینہ طور پر تعصب کو ختم کرنے کے لیے چین نے لاکھوں لوگوں کو ڈیٹینشن کیمپوں میں بھیجا ہے۔ اسکے علاوہ وہ بچوں کو بھی ن سے الگ رکھ رہی ہے۔

ژنگیانگ صوبے کی حکومت کی طرف سے جاری ایک دستاویز کے مطابق صوبے کے 800 سے زیادہ علاقوں میں ایک یا دو ایسے اسکول کھولنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، جس کی کیمیونسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسے  اسکولوں کو غریب بچوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، جنکے افراد خاندان دور دراز علاقوں میں کام کرتے ہیں اور انکی دیکھ بھال نہیں کرسکتے، حالانکہ 2017 کے ایک دستاویز کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ بچوں کو انکے خاندان سے دور رکھا جائے تاکہ ان پر خاندان کا اثر نہ رہے۔