Type to search

صحت

ابلے انڈے کے فائدے : روز کھائے ابلا انڈا، ملیں گے یہ حیرت انگیز فائدے

ابلے انڈے کے فائدے

ہیلتھ ڈسک، (اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) ابلے انڈے کے فائدے : صحت مند اور فٹ رہنے کے لیے غذائیت سے بھرپور غذا کھانا بے حد ضروری سمجھا جاتا ہے۔ انڈے کو پروٹین کا سب سے بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

سنڈے ہو یا منڈے روز کھائے انڈے، یہ سلوگن آج سے نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے۔ جم میں ورزش کرنے والے لوگوں کے لیے انڈے سب سے پسندیدہ غذا ہوتی ہے۔ انڈے کا استعمال آملیٹ ، ہاف فرائی اور ابال کر بھی کیا جاتا ہے۔

 کھانے میں استعمال ہونے والے انڈوں کی بات کی جائے تو انڈوں میں سب سے مقبول مرغی کے انڈے، بطخ کے انڈے، بٹیر، مچھلی کے ہیں۔ مگر دنیا میں سب سے زیادہ کھائے جانے والے انڈے، مرغی کے ہیں۔ ہزاروں سالوں سے انسان انڈے کا استعمال کرتا آرہا ہے۔

انڈے کو صحت کے لیے بہتر مانا جاتا ہے۔ یہ گول یا اوول شکل کا ہوتا ہے۔ انڈے کو خوراک میں شامل کرنے سے آپ کئی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ اصل میں انڈے وٹامن۔بی سے بھرپور ہوتے ہیں، اس کے علاوہ اس میں وٹامن بی 12، بائیوٹن، رائبو فلاوین، تھامین اور سیلینیم بھی موجود ہوتے ہیں۔

یہ تمام وٹامنز اچھے بالوں، جلد اور ناخنوں کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ انڈے میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو صحت کو فائدہ پہچانے میں مددگار ہوتے ہیں۔

سب سے اچھی بات انڈے کی یہ آپ اسے کسی بھی وقت کھا سکتے ہیں۔ صحت مند ناشتے کے طور پر آپ ابلے انڈے کا استعمال کرسکتے ہیں۔

ذائقہ اور صحت سے بھر پور ہے ابلا ہوا انڈا

حاملہ خواتین کے لیے : انڈے میں موجود پروٹین ، وٹامنز اور منرلز جنین کے بہتر نشوونما میں مددگار مانے جاسکتے ہیں۔ کھانے میں انڈے کا استعمال کرنے سے حاملہ خاتون کو مناسب غذائیت مل سکتی ہے۔ ساتھ ہی ہونے والے بچے کو پیدائش کے بعد صحت مند رکھنے میں مدد بھی مل سکتی ہے۔

آئرن کی کمی: جسم میں آئرن کی کمی کے لیے انڈا کافی فائدے مند ہے۔ ابلے انڈے کا پیلا حصہ کھانے سے آئرن کی کمی پوری ہوتی ہے۔ اگر آپ کو آئرن کی کمی ہے تو اپنی ڈائٹ میں ابلے انڈے کے پیلے حصہ کو شامل کرسکتے ہیں۔

امیونٹی ۔ قوت مدافعت: کورونا جیسی وبا کے اس دور میں جسم میں امیونٹی کی سخت ضرورت ہے۔ انڈے میں اینٹی آکسیڈنٹس ، وٹامنز ، پروٹین اور کئی غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جو آپ کی امیونٹی ۔ قوت مدافعت کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔

آنکھوں کی صحت : پڑھنے والے بچوں اور کمپیوٹر پر زیادہ وقت گذارنے والوں کی آنکھوں کی روشنی بنائے رکھنے کے لیے انڈے صحت مند غذا ہے۔ انڈے میں بھرپور مقدار میں کیروٹینائیڈز پایا جاتا ہے، جو آنکھوں کی صحت کے لیے ضروری ہیں۔ روزانہ ایک اُبلا ہوا انڈا کھانے سے آنکھوں کو صحت مند رکھا جا سکتا ہے۔

مسلز: ورزش کرنے والے نوجوان انڈوں کا استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ انڈے کی سفیدی میں پروٹین اور امینو ایسڈ کی بھرپور مقدار ہوتی ہے، جو جسم میں پٹھوں کی نشوونما میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ انڈے کا روزانہ استعمال کرنے سے مسلز کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

تناؤ کے لیے: سوشل لائف میں انسان تناؤ سے گھرا ہوا ہے۔ ایسے میں تناؤ کو دور کرنے میں فائدے مند ہے انڈے کا استعمال اچھا کام کرتا ہے۔ انڈے میں موجود وٹامن بی -12 تناؤ کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے۔ روزانہ ایک ابلا ہوا انڈا کھانے سے تناؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔

یادداشت: دن بھر کے کام اور مصروفیت کی وجہ سے انسان بھولنے لگتا ہے ایسے میں انڈوں کو یادداشت کے لیے اچھا مانا جاتا ہے۔ انڈے میں کولین پایا جاتا ہے۔ جس سے یادداشت تیز ہوتی ہے اور دماغ ایکٹیو رہتا ہے۔ روزآنہ ایک ابلا انڈا کھانے سے دماغ کو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔

ہڈیاں: عمر کے ساتھ ہمارے جسم میں ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہے ایسے میں انڈوں کا استعمال ہڈیوں میں توانائی کا کام کرتا ہے۔ کیونکہ انڈے میں وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔ وٹامن ڈی کی کمی کو دور کرنے اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے آپ اپنے ناشتے میں ایک ابلا ہوا انڈا ضرور شامل کریں۔ یہ ہڈیوں کو کمزور ہونے سے بچانے میں مدد کرسکتا ہے۔

ابلے انڈوں کو کتنی دیر میں کھا لینا چاہیئے

ابلے ہوئے انڈے کھانے کے کئی فائدے ہیں، لیکن لوگ انڈے کو ابال کر بعد میں کھانے کے لیے رکھ دیتے ہیں۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ انڈے کو ابالنے کے کتنی دیر بعد کھا لینا چاہیئے۔

کچے انڈے کو آپ کافی دن تک رکھ سکتے ہیں، لیکن اسے صحیح طریقے اسٹور کرنا پڑے گا۔ ابلے انڈوں کو ٹھنڈا ہونے کے بعد جتنا جلدی ہوسکے فریج میں رکھ دیں، سخت ابلے انڈے کو پانچ سے سات دنوں تک رکھا جاسکتا ہے۔

اگر آپ ابلے ہوئے انڈے  کا استعمال فوری نہیں کرنا چاہتے تو اسکا چھلکا نہ نکالے۔ جب کھانا ہو تبھی چھلکا نکالے اور فوری کھا لیں۔ اگر ابلتے وقت انڈا ٹوٹ گیا، تو اسے فوری کھا لیں،


(نوٹ: صلاح سمیت یہ مضمون صرف عام معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ کسی بھی طرح سے طبی رائے کا متبادل نہیں ہے، مزید معلومات کے لئے ہمیشہ کسی ماہر یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اردو پوسٹ اس معلومات کے لیے ذمہ داری قبول نہیں کرتا ہے۔ )