Type to search

تلنگانہ

کیا میری حیثیت ایک ہتھنی سے بھی کم ہے ؟ صفورازرگر۔

Am I less than an elephant? Safoora Zargar

از قلم : امام علی مقصود شیخ فلاحی ۔

Imam Ali bin Maqsood Sheikh Falahi

امام علی مقصود شیخ فلاحی


کیرالہ میں چند دنوں  قبل ایک ہتھنی کا الم ناک سانحہ در پیش آیا تھا جو کہ واقعی درد ناک تھا۔ جس کے سماع سے دل خائف و ترساں کے گہوارے میں گرجاتا ہے کہ ایک بے زبان جانور کو کس قدر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، اور اس پر بدرجہ غایت حسرت و پچھتاوے کا ماحول بنایا جاتا ہے، رنج و الم کا اظہار کیا جاتا ہے، بحث و مباحثہ کا بازار گرم کیا جاتا ہے، اخبار کے صفحوں کو قلم بند کیا جاتاہے، افزوں تر ٹیلیویژن کا استعمال کیا جاتا ہے، متواتر اسے منظر عام پر لایا جاتا ہے، تاسف لیڈراں دیکھایا جاتاہے۔

 

پر ہائے ہائے !  میرا کوئی پرسان حال نہیں رہا، کئی دنوں سے  سلاخوں کے پیچھے زندگی بسر کر رہی ہوں، پیٹ میں بچہ لئے ہوئے گوشۂ نشیں ہوں، ماں باپ کی یادوں میں کھوئی کھوئی  ہوں، وکلاء کا آسرا لگائی ہوئی ہوں، اور انگشت بدنداں ہوں کہ کیا میری حیثیت ایک ہتھنی سے بھی کم ہے ؟ وہ بھی حاملہ تھی میں بھی حاملہ ہوں، وہ بھی جاندار تھی میں بھی جاندار ہوں، وہ بھی خورد و نوش کرتی تھی میں بھی خورد و نوش کرتی ہوں، وہ بھی سیر و تفریح کرتی تھی میں بھی سیر و تفریح کرتی ہوں، وہ بھی خدا کی مخلوق تھی میں بھی خدا کی مخلوق ہوں، فرق یہ ہے کہ وہ بے زبان تھی میں زبان دار ہوں، فرق یہ ہے کہ وہ حیوان تھی میں انسان ہوں، فرق یہ ہے کہ وہ مخلوق تھی میں اشرف المخلوق ہوں، فرق یہ ہے کہ وہ ناداں تھی میں دانا ہوں، فرق یہ ہے کہ وہ جنگلی تھی میں گھریلوں ہوں، وہ (في احسن تقويم) کے زمرے سے خارج تھی، جبکہ میں اس پیرائے میں شامل ہوں، وہ مسجود ملائکہ کے شرف سے محروم تھی ، جبکہ میں اس برتری سے شرف تحسین ہوں،  پر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک حاملہ ہتھنی کی موت پر رنج والم کے پہاڑ توڑے جائیں، اسکی فنائیت پر ہائے ہائے کیاجائے، اسکی عدم محافظت پر ندامت و شرمساری کا ماحول سجایا جائے، اور ایک  باحیات و باامید لڑکی کو سلاخوں کے پشت رکھا جائے، نہ اسکے بچے کی فکر کی جائے نہ اسکا‌خیال رکھا جائے اور ایک ہتھنی کی موت پر پر ملال کیاجائے، کیا میری حیثیت ایک ہتھنی سے بھی کم ہے؟

 

مسلمانوں ! میں تم سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا تم نے مجھے اپنی ذہنی افتاد سے فراموشی کے تہ خانے میں ریل دیا ہے ؟ میں وہی دختر اسلام ہوں جو اسم صفورا زرگر سے پانام ہوں،میں وہی صفورا ہوں جو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں زیر تعلیم ہوں۔

 

 مسلمانوں !  میں اپنے قوم کی انقلابی بیٹی ہوں ، میں ایک جرأت مند و حوصلہ مند، باکردار و باحیاء، پاک دامن و پیکر امن، محب وطن و ملت اسلامیہ کی بیٹی ہوں۔ میں نے “سی اے اے” کے خلاف آواز بلند کی، میری رک رگ نے انقلاب و انقلاب و انقلاب کا نعرہ لگایا،  جامعہ کی در و دیوار نے میرا‌ساتھ دیا، جامعہ کا چپہ چپہ میری آواز سے آواز ملا تا رہا ،جامعہ کے طلباء میں کوئی مولانا آزاد نظر آرہا تھا تو سر سید نظر آرہا تھا، کوئی حسین احمد مدنی نظر آرہا تھا، تو کوئی قاسم نانوتوی نظر آرہا تھا، کوئی جواہر لعل نہرو نظر آرہا تھا تو کوئی گاندھی کا نظریہ پیش کر رہا تھا، غرض یہ کہ پورا جامعہ انقلاب و انقلاب و انقلاب کے نعرے سے گونج رہا تھا اور میں پیش پیش نظر آرہی تھی، صرف اس لئے کہ اس کالے قانون کو رد کیا جائے، قلیل التعداد گروہ کا ساتھ نبھایا جائے،آئین کی محافظت کی جائے، غنڈوں کی حکومت کو ہست کا نقیض بنایا جائے، آئندہ کی نسلوں کو دل پزیر ماحول فراہم کیاجائے، یہی میری خواہش تھی لیکن انہی میری خواہشوں کی بنا پر میں قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہوں، مجبور و مضطرب ہوں، سازشوں کی شکار ہوں، دہلی میں فساد بھڑکانے کے الزام میں ہوں، کئی ماہ سے تہاڑ‌ جیل کی کوٹھری میں ہوں، ننھی سی جان کو کوکھ میں لئے ہوئے پابند سلاسل ہوں ۔

 

کیا میری حیثیت ایک ہتھنی سے بھی کم ہے۔

میں وہی صفورا زرگر ہوں جسے شاہین باغ کی دنگائی اور جامعہ کی باکرہ کہا جارہا ہے ، جسے برے وصفی نام سے موسوم کیا جارہا ہے، جسے بد روش کا سرغنہ ٹھہرایا جارہا ہے، جسے مفسدوں کا پیشوا بتلایا جارہا ہے، جسکے حاملہ ہو نے پر لہو خشک کیا جارہا ہے , جبکہ الحمدللہ میرے پاس سارے اسناد موجود ہیں کہ میں ایک بیاہی خاتون ہوں ، ٢٠١٨ میں دوران طالب علمی صبور احمد شروال کو اپنا مجازی خدا منتخب کیا اور نکاح کے مقدس عمل سے صبور احمد کی رفیق حیات بنی ۔

 

پھر بھی مجھے بد کردار و بے حیاء کے القاب سے پکارا جارہاہے، دہشتگردوں کا رہنماء بتایا جارہاہے، سلاخوں کے پیچھے ستایا جا رہا ہے ، میرے بچے کا استہزاء کیا جارہا ہے۔

 

یہ سب کچھ کرنے والے کون ہیں؟ یہ وہی لوگ ہیں جو انسانیت کے اسم سے برہنہ ہیں ، دوسروں کے خون چوسنا جنکا داخلی عمل ہے، جنکے کردار سے متعفن ہوا چلتی ہے، جنکی زبان پر ہمیشہ تنفر کی باتیں لہرتی ہے، جنکے چہروں سے منحوسیت ٹپکتی ہے، جنکے ہر ہر جملے پر بربریت و بہیمت جھلکتی ہے، ماں کا پیٹ چاک کر کے بچوں کو نیزوں پر اچھال کر خوشیاں منانے والے ، ایسے ظالم و جابر متعصبانہ رویے اختیار کر نے والے، اپنی ضمیروں کو فرخت کرنے والے میری کوکھ میں پل رہے جنین کو اس کارخانہ خدا میں آنے سے پہلے ہی اسے اکارت کرنے کی سازشیں رچ رہے ہیں۔

 

ارے حاملہ ہتھنی کی موت پر مگر مچھ کے آنسوں بہانے والوں، انسانیت کی یہ کونسی صفت ہے کہ ایک ہتھنی کی موت پر گریہ و آزاری کیا جائے اور ایک حاملہ طالبہ کی قید و بند پر خوشیاں منائی جائے۔

 

کیا میری حیثیت ایک ہتھنی سے بھی کم ہے؟

عورتوں کی عظمت و رفعت سے جاہل، ماں بہن کی حدود و شروط سے بےنیاز، بنا شادی کے اولاد تولد کرنے والوں، اخلاق سوز کے بانیوں، مجھے انسانیت کا درس دیتے ہو ؟ پوری دنیا واقف ہے کہ میں بیاہی لڑکی ہوں، عفت و عصمت کی شہزادی ہوں، لیکن میں جانتی ہوں کہ عفت و پاکدامن عورت کو بےآبرو کرنا تمہارا خاندانی منصوبہ ہے جب زوجہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عائشہ صدیقہ طاہرہ و پاکیزہ کو نہیں چھوڑا گیا تو میں کون سے کھیت کی مولی ہوں، اس لئے مجھے اپنے الزام تراشی پر کوئی‌ غم نہیں۔

 

اور عقل کے اندھوں سن لو میں کل بھی تمہارے خلاف تھی ، آج بھی تمہارے خلاف ہوں، اور آئندہ بھی تمہارے خلاف رہوں گی کیونکہ ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے،  میں دعا گو ہوں اور دعا کی درخواست بھی کرتی ہوں کہ اللہ میرے لاڈلے کو ایک  عمر دراز سے نوازے اور عمر بن عبدالعزیز کی صفات عطاء کرے جس کے بل بوتے وہ ان نکموں کا صفایا کرے۔ اور مجھے امید ہے کہ ان ظالموں کا صفایا ہو کر رہے گا، ان کا تخت پلٹ کر رہے گا، کیوں کہ تاریکی کے بعد ہمیشہ روشنی کی امید کی جاتی ہے، پروردگار بھی ان کے تاک میں ہے اور مہلت پہ مہلت دئے جارہاہے جس روز انہیں گرفت میں لے گا تو انکی ہوا اکھاڑ دے گا جیسا کہ قرآن شاہد کامل ہے:

 

وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الْأَبْصَارُ (ابراھیم:42)

ترجمہ: ظالموں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھ وہ تو انہیں اس دن تک مہلت دئے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔

 اور تاریخ بھی بات پر گواہ ہے کہ جب بھی کسی فرعون نے سر اٹھایا ہے تو موسیٰ بھی ضرور آیا ہے۔

کسی شاعر نے کیا ہے خوب کہا ہے:

لشکر بھی تمہارا ہے سردار بھی تمہارا ہے،

تم جھوٹ کو سچ لکھ دو اخبار بھی تمہارا ہے،

اب خون مظلوم نہیں زیادہ بہنے والا،

ظلم کا دور نہیں زیادہ رہنے والا،

ان اندھیروں کا جگر چیر کے نور آئے گا،

تم ہو فرعون تو موسیٰ بھی ضرور آئے گا۔

Tags:

You Might also Like