Type to search

تلنگانہ

حیدرآباد میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج میں فروخت ہوگئے سارے جھنڈے

حیدرآباد،9جنوری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تلنگانہ کی دارالحکومت حیدرآباد میں شہریت ترمیم ایکٹ کو لیکر چل رہی مخالفت میں اسکے حامیوں اور مخالفین دونوں ہی اپنی ریالیوں میں ترنگے لیکر چل رہے ہیں جس سے 26 جنوری سے ٹھیک پہلے جھنڈے کی کمی ہوگئی ہے- ترنگےکی سپلائی کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلی بار یوم جمہوریہ پر جھنڈے کی کمی ہوئی ہے- مانگ کو دیکھتے ہوئے دوکانداروں نے ترنگے کی قیمت دوگنی کردی ہے-
اس سے پہلے 4 جنوری کو ہزاروں لوگ حیدرآباد کی سڑکوں پر آگئے تھے جس سے قومی ترنگے کا اسٹاک اور بھی کم ہوگیا، خوردہ فروشوں نے ریالی کے لیے قریب 3.5 لاکھ ترنگے فروخت کیے- بتایا جارہا ہے کہ پچھلے 6 دہائیوں میں پہلی بار شہر میں اتنے لوگ پر امن طریقے سے جمع ہوئے تھے، ترنگے فروخت کرنے والے دوکانداروں نے مینوفیکچررز سے اور جھنڈے منگائے ہیں، ادھر، جھنڈے بنانے والے اس ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے اوور ٹائم کررہے ہیں-
اگلے دو دنوں میں مانگ میں اور زیادہ ہوگی تیزی
حیدرآباد میں ترنگوں کی سپلائی کرنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ اگلے دو دنوں میں مانگ اور ذیادہ تیزی آسکتی ہے کیونکہ 10 جنوری کو اسد الدین اویسی کی میر عالم عیدگاہ سے شاستری پورم تک بڑی ریالی ہے- اویسی نے اعلان کیا ہے کہ وہ چارمینار پر ترنگا لہرائیں گے اور انہیں 10 گنا 30 فٹ لمبا ترنگا بنانے کا آرڈر دیا ہے- مانگ کو دیکھتے ہوئے 15 روپے کے جھنڈے کی قیمت 30 اور 30 روپے کے جھنڈے کو 50 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے-
ترنگا بنانے والے مہندر ریڈی نے کہا، عام طور پر یوم جمہوریہ اور یوم آزادی سے پہلے ترنگے کی مانگ تیز ہوتی ہے لیکن پچھلے 15 دن سے پورے ملک سے ترنگے کی مانگ تیز ہوگئی ہے- دہلی کے خوردہ فروش کہہ رہے ہیں کہ کیا آپ ہمیں اور زیادہ اسٹاک مہیا کراسکتے ہیں، جھنڈے کی دوکان چلانے والے ایم چندا کہتے ہیں کہ سی اے اے کے احتجاج شروع ہونے کے بعد تلنگانہ اور آندھرا میں 10 لاکھ جھنڈے فروخت کیے جاچکے ہیں-

Tags:

You Might also Like