Type to search

تلنگانہ

ملک کادستور تمام مذاہب کو مساوی درجہ دیتا ہے: اکبرالدین اویسی

حیدرآباد،16مارچ(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) تلنگانہ اسمبلی نے بھی پیر کو سی اے اے کے خلاف قرارداد کو پاس کردیا ہے۔ وزیراعلی کے چندر شیکھرراؤ نے اسمبلی میں کہا کہ ایسے لاکھوں لوگ ہیں جنکے پاس درست دستاویزات نہیں ہے۔ ایسے میں مرکز کو شہریت ترمیمی ایکٹ پر ایک بار پھر سے سوچنا ہوا ہوگا۔
اس کالے بل کے خلاف اسمبلی میں مجلس اتحاد المسلین کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے این پی آر، این آر سی اور سی اے اے کے خلاف پیش کردہ قرار داد کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام قوانین ہندوستانی شہریوں کی شہریت ختم کرنے اور بیرونی شہریوں کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے سے متعلق ہیں۔ اکبر الدین اویسی نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے یہ تمام ہندو، سکھ، خاص طور پر دلتوں اور گریجن کا مسئلہ ہے جو اپنی پیدائش کی سند نہیں رکھتے۔انہوں نے کہاکہ سی اے اے نہ صرف ملک کو تقسیم کرتا ہے بلکہ یہ ملک کو کمزور بھی کرتا ہے۔

سی اے اے، این پی آر اوراین آر سی کے خلاف 8ریاستوں نے قرارداد منظور کی ہے تاہم کسی بھی ریاست نے اس طرح تفصیلی قرارداد جس کو آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں منظوری دی جارہی ہے کی طرح پیش نہیں کی ہے۔
اکبر الدین اویسی کا کہنا ہے کہ ملک کا دستور تلک لگانے والے، پگڑی پہننے والے سکھ اور داڑھی رکھنے والے مسلم کو مساوی درجہ دیتا ہے۔وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے دستوری اصولوں کااحترام کیا ہے۔انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ قانون جامعہ اور اے ایم یو کے طلبہ پر حملوں کے لئے ذمہ دار نہیں ہے؟

آج سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی پورے ملک میں مخالفت کی جارہی ہے۔ہم اس طرح کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں کہ سی اے اے دستور ہند کا مخالف ہوگیا ہے،این پی آر کے قواعد اہم قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور شمارکنندوں کا مینول،قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔این پی آر کے قوانین کی تیاری سی اے اے 2003کے قانون کی تیاری سے ایک سال پہلے کی گئی تھی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بچہ کی پیدائش والدین سے پہلے ہوگئی ہو۔این پی آر/این آر سی کے 2003کے قوانین اصل ایکٹ (شہریت ایکٹ 1955)کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔این پی آر غیر قانونی اور غیردستوری ہے کیونکہ اس کو قانونی حمایت حاصل نہیں ہے۔

این پی آر کے قواعد سرکاری عہدیداروں کو کسی کو بھی مشکوک کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔شہریت ثابت کرنے کے ثبوت کا بوجھ صرف شہریوں پر ہی لادا گیا ہے۔ اکبر الدین اویسی نے کہاکہ کسی بھی عہدیدار کوکسی کو بھی مشکوک قراردینے کی بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اکبراویسی نے کہاکہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے جی او جاری کرتے ہوئے این پی آر پر روک لگائی ہے اور مردم شماری کے لئے علحدہ تواریخ کو نوٹیفائی کیاہے۔این پی آر کے تعلق سے خدشات بشمول اس کابائیکاٹ کرنے اور شمار کنندوں کی سلامتی کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ مردم شماری اور این پی آر کو ایک دوسرے سے علحدہ کرنے کی بھی اپیلیں کی گئی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایاجاسکے کہ مردم شماری عمل کو نقصان نہ ہونے پائے۔50فیصد افراد کے پاس ذاتی مکانات نہیں ہیں۔داخلی تارکین وطن کاکیاہوگا؟ایسے افراد کا کیا ہوگا جن کا اندراج مختلف پتوں پر کیاگیا ہے اور وہ رہتے دوسرے مقام پر ہیں۔کیا یہ قانون مخالف غریب نہیں ہے؟

چیف منسٹر نے کہا کہ ہندوستان جیسے ملک میں ہم اس طرح کی پریشانیوں کو برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس کو منظور نا کرنے کئی مضبوط وجوہات ہیں۔ انہوں نے سی اے اے کو آئین کے خلاف بتایا۔مذہب کے نام پر تقسیم کرنے والا قانون ہے۔انہوں نے بتایا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ایک مخصوص طبقہ کو ستانے کیلئے یہ قانون بنایا گیاہے۔

ان پٹ بشکریہ یو این آئی ایجنسی سے بھی۔

Tags:

You Might also Like