Type to search

قومی

افسانچے

AFSANCHE

مصنف : اُسید اَشہر ۔ جلگاؤں، مہاراشٹر

رابطہ : usaidashhar@gmail.com


دِکھاوا
دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو اس کی آنکھیں ایک پل کے لیے جھپک ہی نہ پائی۔ اس کا بڑا بھائی دروازے پر کھڑا تھا۔ وہ بھائی جس نے کئی سالوں سے اس کے گھر کا رُخ تک نہیں کیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک آدمی کھڑا تھا جس کے دونوں ہاتھوں میں دو بڑے تھیلے تھے۔
“آئیے بھائی، تشریف لائیے۔” اس نے پیچھے ہٹ کر بڑے بھائی کو راستہ دیا۔
“شکریہ۔ میں تمھارے لیے یہ راشن کٹ لایا ہوں میری فلاحی تنظیم کی طرف سے۔” یہ کہہ کر بڑے بھائی نے اپنے ساتھ آنے والے آدمی کو اشارہ کیا۔ اس نے دونوں تھیلے اسے پکڑا دیے۔ چھوٹے بھائی کی آنکھوں میں خوشی و تشکر کے آنسو جھلملانے لگے۔
“اب تم ذرا اس طرف روشنی میں آجاؤ۔ ہم ایک فوٹو کھینچیں گے۔” بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو اپنے قریب کیا اور مسکرا کر کیمرے کی طرف دیکھنے لگا۔ چھوٹا بھائی الجھے ہوئے جذبات کے ساتھ اس کے مسکراتے چہرے کو تکنے لگا۔

 

انتظار
وہ بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے چھوٹے سے مکان میں داخل ہوا اور ایک طرف بیٹھ گیا۔
“کیا ہوا؟ راشن کٹ نہیں لائے؟” اس کو یوں اداس دیکھ کر اس کی بیوی نے پوچھا۔
“ایک تنظیم کی طرف سے کچھ لوگ آئے تھے راشن کٹس بانٹنے کے لیے۔” وہ خاموش ہوگیا۔
“ہاں تو پھر کیا ہوا؟” بیوی مضطرب ہوگئی۔
“میں بھی قطار میں کھڑا ہوگیا۔ بہت لمبی قطار تھی۔ بہت دیر انتظار کیا۔ لیکن مجھے راشن نہیں مل پایا۔ ان کا اسٹاک ختم ہو چکا تھا۔”
“کیا انہوں نے بہت کم کٹس لائی تھی تقسیم کرنے کیلئے؟” اس نے پوچھا۔
“نہیں۔ وہ تو مستحقین کے حساب سے، بلکہ کچھ زیادہ ہی کٹس لائے تھے لیکن کچھ مکانات کے دو دو تین تین افراد نے الگ الگ کٹ لے لی۔ جس کی وجہ سے ان کی لائی گئی کٹس ناکافی ثابت ہوئی۔”
“اب ہم کیا کریں گے؟”
“کر بھی کیا سکتے ہیں؟ انتظار۔” وہ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر بولا۔

 

سادگی سے عید
کھڑکی سے خاموش سڑکوں کو کچھ دیر تکنے کے بعد وہ اپنی بیوہ ماں سے مخاطب ہوا۔
“ماں! کب تک اِس شہر پر سناٹے کا راج رہے گا؟”
“بس کچھ دن اور بیٹا! تم اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہو.”
“اس سال عید کیسے منائی جائے گی؟ ایسے سناٹے میں عید منانا اچھا تو نہیں لگے گا؟”
“بیٹا، وہ سب بار بار اعلان کررہے ہیں کہ اس سال عید سادگی سے منائیں۔”
“ماں، کیا اس بار بھی مجھے نئے کپڑے نہیں ملے گے؟”
“بیٹا، اس دفعہ بھی ہم پرانے ہی کپڑوں میں عید منائیں گے۔”
“لیکن ماں، تم نے تو مجھ سے وعدہ کیا تھا اور یقین دلایا تھا کہ اس بار مجھے نئے کپڑے ضرور ملے گے۔”
“بیٹا!” ماں اپنی نم آنکھیں خشک کرتی ہوئی بولی۔ “اس دفعہ ہم اکیلے نہیں ہیں۔ اس سال تو کوئی بھی نئے کپڑے نہیں خریدے گا۔ سب پرانے کپڑے پہن کر عید منائیں گے۔”
“ایسا کیوں ماں؟”
“اللّٰہ کی مصلحت ہے بیٹا!”
“سچ؟ تب تو میں بھی اس عید پر اپنے پرانے کپڑوں پر فخر جتا سکوں گا۔” بچے کے چہرے پر خوشی بکھر گئی۔
وہ دوبارہ کھڑکی سے حد نگاہ تک پھیلے سناٹے کی طرف متوجہ ہوگیا۔

(مصنف اُسید اَشہر بارہویں جماعت کے طالب علم ہے۔)


 نوٹ: اس مضمون کو اُسید اَشہر نے لکھا ہے۔ یہ مضمون نگار کی اپنی ذاتی رائے ہے۔ اسے بنا ردوبدل کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔اس سے اردو پوسٹ کا کو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی سچائی یا کسی بھی طرح کی کسی معلومات کے لیے اردو پوسٹ کسی طرح کا جواب دہ نہیں ہے اور نہ ہی اردو پوسٹ اس کی کسی طرح کی تصدیق کرتا ہے۔

Tags:

You Might also Like