Type to search

ٹی وی اور فلم

اداکارہ نمی کا 88 سال کی عمر میں انتقال

فلمی ڈسک،26مارچ(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ نمی کا 88 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ بتایا جارہا ہے کہ وہ ایک لمبے عرصے سے علیل تھیں اور ممبئی کے سرلا نرسنگ ہوم میں آخری سانس لی۔ نمی کی موت کے بعد ، بالی ووڈ کے بہت سے اداکاروں نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا ، اور ان کی موت پر بھی غم کا اظہار کیا۔

بتادیں کہ نِمی اصل نام نواب بانو ہے 1950ء کی دہائی سے ابتدائی 1960ء کی دہائی تک فعال رہی۔ انکی پیدائش 18فروری 1933 کو اتردیش کے آگرہ شہر میں ایک مسلم گھرانے میں ہوئی۔ انکے والد عبدالحکیم فوجی ٹھیکداری کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ اور انکی والدہ اداکارہ اور گلوکارہ تھی۔ جب نمی صرف گیارہ سال کی تھی تب انکی والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا۔

بالی ووڈ فلمساز مہیش بھٹ نے اداکارہ نمی کے انتقال کے بارے میں ٹویٹ کیا ، جس میں انہوں نے اداکارہ کو الوداع بھی کہا ہے۔ نمی کی موت پر آنے والا مہیش بھٹ کا ٹویٹ سوشل میڈیا پر شدید وائرل ہو رہا ہے۔ مہیش بھٹ نے اپنے ٹویٹ میں نمی کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ، “آپ اپنے دل کو بھلے ہی خواہش سے دل جیت سکتے ہیں ، لیکن آخری میں آپ موت سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ ہاتھ جوڑ کر الوداعی نمی جی۔ مہیش بھٹ کے علاوہ نمح کے انتقال کو لیکر بالی ووڈ کے تجربہ کار اداکار رشی کپور نے بھی نمی کی موت کے بارے میں ٹویٹ کیا ، جس نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ رشی کپور نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ، بابی کو اسکے پریمیر پر ریلیز ہونے پر ڈھیر ساری دعائیں دینے کے لیے بہت شکریہ۔ آپ آر کا حصہ تھی۔ برسات آپکی پہلی فلم تھی۔ اللہ آپ کو جنت عطا کرے۔ آمین

بتادیں کہ اداکارہ نمی نے 1950 سے لے کر 1960 کی دہائی میں اپنی ہندی فلموں کے لیے خوب نام کمایا۔ فلم سزا، آن، اڑن کھٹولا، بھائی بھائی، کندن، میرے محبوب، پوجا کے پھول، آکاش دیپ اور لو اینڈ گوڈ، انکی شاندار فلموں میں سے اک ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ راج کپور نے انہیں اپنی فلم برسات کے ذریعہ بریک دیا تھا ساتھ ہی انکا نام نواب بانو سے بدل کر نمی رکھا تھا۔

Tags:

You Might also Like