Type to search

قومی

کیرالہ میں مسجد میں ہوئی ہندو لڑکی کی شادی، سی ایم نے دی مبارکباد

کیرالہ،20جنوری(اردوپوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) کیرالہ کی چیروالی مسلم جماعت مسجد میں آپسی ہم آہنگی کی مثال قائم کی ہے۔ مسجد احاطہ میں آج 22 سالہ انجو کی روایتی ہندو رسم و رواج سے شادی کی شہنائی گنجی۔ بتایا گیا کہ مسجد میں ہوئی اس شادی میں منتر پڑھے گئے اور جوڑے نے آگ کے سامنے ساتھ پھیرے لیے۔دولہن انجو اور شرت نے ایک دوسرے کو مالا پہنائی۔ مسجد احاطہ میں موجود پنڈت نے دولہا دولہن سے دونوں کی شادی کروائی۔ اسکے بعد شادی میں آئے لوگوں کے لیے سبزی والے کھانے کا انتظار کیا گیا تھا۔

دراصل انجو کا خاندان مالی طور سے کمزور ہے۔ اسکے والد اشوکن کا انتقال ہوچکا ہے۔ انجو کی ماں بندو نے مسجد کمیٹی سے شادی کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔ چیروالی جماعت کمیٹی کے سربراہ نجم الدین الوموٹیل نے کہا کہ شادی کے لیے مسجد کیمٹی نے یادگار کے طور پر دس سونے کے سکے تحفے اور دو لاکھ روپے دیئے گئے۔ شادی ہندو روایت سے ہوئی اور اس شادی میں قریب ایک ہزار لوگوں کے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔

نجم الدین نے بتایا کہ پہلے سے ہی مالی طور پر کمزور خاندان کے حالات 2018 میں اشوکن کی موت کے بعد اور خراب ہوگئے۔ خاندان کے سب سے چھوٹے بچے کی پڑھائی کے لیے میں نے نجی طور پر مدد کی ہے۔ اس بار مسجد کمیٹی سے مدد کی اپیل کی گئی تھی اور شادی کا خرچ بھی بہت زیاد ہے۔ اس لیے کیمٹی نے مدد کرنے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سی ایم بولے۔ کیرالا ایک ہے اور ہمیشہ رہے گا
اس بارے میں کیرالا کے سی ایم نے بھی اپنے فیس بک پر پوسٹ کیا، انہوں نے نئے جوڑے کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے آگے لکھا، کیرالا نے ہمیشہ سے ہی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے شاندار مثال پیش کیے ہیں۔ یہ شادی اس وقت ہوئی ہے، جب مذہب کے نام پر لوگوں کو باٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔ کیرالا ایک ہے اور ہمیشہ ایک رہے گا۔