Type to search

قومی

شاہین باغ میں ٹھنڈ سے ہوئی چار مہینے کے بچے کی موت، نہیں ٹوٹا ماں۔باپ کا حوصلہ

نئی دہلی،4فروری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) چار مہینے کے محمد جہاں کو اسکی ماں روز شاہین باغ کے مظاہرے میں لے جاتی تھی۔ وہاں مظاہرین اسے اپنی گود میں لییکر کھیلاتے تھے اور اکثر اسکے گالوں پر ترنگا کا نشان بنا دیا کرتے تھے۔ لیکن محمد اب کبھی شاہین باغ میں نظر نہیں آئے گا۔ پچھلے ہفتے ٹھنڈ لگنے کی وجہ سے اسکی موت ہوگئی۔

شاہین باغ میں کھلے میں مظاہرہ کے دوران چار مہینے کے اس بچے کو ٹھنڈ لگ گئی تھی جس سے اسے زکام اور سینے میں جکڑن ہوگئی تھی۔ لیکن اسکی ماں اب بھی مظاہرے میں حصہ لینے کے فیصلے پر قائم ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یہ میرے بچوں کے مستقبل کے لیے ہے۔

محمد جہاں کے والدین نازیہ اور عارف بٹلہ ہاؤس علاقے میں پلاسٹک اور پرانے کپڑے سے بنی چھوٹی سی جھوپڑی میں رہتے ہیں۔ انکے دو اور بچے ہیں۔ پانچ سال کی بیٹی اور ایک سال کا بیٹا ۔ اترپردیش کو بریلی کے رہنے والے جوڑے مشکل سے اپنا روز مرہ کا خرچ پورا کرپاتے ہیں۔ عارف ایمبرائیڈری ورک کا کام کرتے ہیں۔ اور ای۔رکشا بھی چلاتے ہیں۔ انکی بیوی نازیہ ایمبرائیڈری ورک کا کام میں انکی مدد کرتی ہے۔

عارف نے کہا، ایمبرائیڈری ورک کے کام کے علاوہ ، ای ۔ رکشا چلانے کے باوجود میں پچھلے مہینے زیادہ کما نہیں سکا۔ اب میرے بچے کا انتقال ہوگیا۔ ہم نے سب کچھ کھو دیا، انہوں نے محمد کی ایک تصویر دیکھائی ، جس میں اسے ایک اون کی ٹوپی پہنائی گئی ہے جس پر لکھا ہے، آئی لو مائی انڈیا۔

خود سے بے حال نازیہ نے بتایا کہ انکے ننھے بیٹے کی مو ت 30 جنوری کی رات کو مظاہرہ سے لوٹنے کے بعد نیند میں ہی ہوگئی۔  انہوں نے بتایا میں شاہین باغ سے دیر رات ایک بجے آئی تھی۔ اسے اور دیگر بچوں کو سلانے کے بعد میں بھی سو گئی۔ صبح میں نے دیکھا کہ وہ کوئی حرکت نہیں کررہا تھا۔ اسکا انتقال سوتے ہوئے ہوگیا۔

والدین نے 31 جنوری کی صبح اسے قریبی الشفا ہاسپٹل لے گیے۔ ہاسپٹل نے اسے مردہ قرار کردیا۔ نازیہ 18 ڈسمبر سے روز شاہین باغ کے مظاہرے میں جاتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بچے کو سردی لگی تھی جو جان لیوا بن گئی اور اسکی موت ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے ڈیٹھ سرٹیفیکٹ پر موت کا کوئی خاص وجہ نہیں لکھی ہے۔ نازیہ نے کہا کہ اسکا ماننا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی سبھی برادری کے خلاف ہے اور وہ شاہین باغ کے مظاہرے میں شامل ہوگی، لیکن اس بار اپنے بچوں کے بنا۔

انہوں نے کہا، سی اے اے مذہب کی بنیاد پر باٹتی ہے اور اسے کبھی قبول نہیں کرنا چاہیئے۔ مجھے نہیں پتہ ہے کہ کیا اس میں سیاستت شامل ہے۔ لیکن بس اتنا جانتی ہوں کہ جو میرے بچوں کے مستقبل کے خلاف ہے، اس پر میں سوال کرونگی، عارف نے اپنے بچے کی موت کے لیے این آر سی اور سی اے اے کو ذمہ داری ٹہرایا ہے۔ انہوں نے کہا، اگر حکومت سی اے اے اور این آر سی نہیں لائی تو لوگ مظاہرہ نہیں کرتے اور میری بیوی ان میں شامل نہیں ہوتی اور میرا بیٹا زندہ ہوتا۔

Tags:

You Might also Like