Type to search

قومی

مغربی بنگال میں مقیم ایک کروڑ غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجیں گے : گھوش

مغربی بنگال،20جنوری(اردو پوسٹ انڈیا ڈاٹ کام) مغربی بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ مرکزی حکومت ملک بھر میں این آر سی کو لاگو کروانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ مغربی بنگال میں غیر قانونی طور پر مقیم ایک کروڑ بنگلہ دیشیوں کو واپس بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی لوگ سی اے اے کی مخالفت کررہے ہیں۔ وہ اصل میں ہندوستان کے خیال کے خلاف ہے اور اسی وجہ سے ہندو مہاجرین کو شہریت دینے کی مخالفت کررہے ہیں۔

شمالی 24 پرگنا ضلع میں ایک ریلی کو مخاطب کرتے ہوئے گھوش نے کہا، سی اے اے کے مخالفت کررہے لوگ غیر بنگالی ہے اور وہ ہندوستان کے آئیڈیا (خیال) کے خلاف ہے۔ مغربی بنگال میں ایک کروڑ غیر قانونی مسلم یہاں حکومت کی طرف سے مہیا کرائے جارہے 2 روپے فی کلو کی سبسیڈی والے چاول پر پھل پھول رہے ہیں۔ ہم انہیں واپس بھیجیں گے۔

سی اے اے کے سپورٹ پرفرقہ وارانہ بھی گھوش کریں، تو افسوس نہیں

گھوش نے کہا، یہی غیر قانونی مسلمان ریاست میں ہوئے گڑبڑ میں شامل رہے ہیں۔ مذہبی بنیاد پر ہراساں کا شکار ہوکر اپنی جان بچا کر بھاگنے والے ہندو مہاجرین کو حمای دینے کے لیے اگر مجھے فرقہ وارانہ بھی اعلان کیا جاتا ہے، تو مجھے کسی طرح کا افسوس نہیں ہے۔

ہندوستان کے خیال کے خلاف ہے سی اے اے کی مخالفت کررہے لوگ

انہوں نے کہا، جو بھی لوگ سی اے اے کی مخالفت کررہے ہیں، وہ یا تو اینٹی ہندوستان  ہے یا پھر اینٹی بنگالی  ہے۔ وہ اصل میں ہندوستان کےخیال کے خلاف ہے اور اسی وجہ سے ہندو مہاجرین کو شہری دینے کی مخالف کررہے ہیں۔ جومشہور شخضیات این آر سی اور سی اے اے کی مخالفت کررہے ہیں انکا دل گھسپیٹیوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہندو مہاجرین کا کیا ہوگا؟ اسکا کوئی بھی جواب ان کے پاس نہیں ہے۔ یہ دوہرا رویہ ہے۔

عوامی املاک کو نقصان پہچانے والوں کو گولی ماریں گے

انہوں نے کہا، ممتا بنرجی کی دور حکومت میں 500 کروڑ کی قیمت کے عوامی املاک کو نقصان پہچانے والے بچ نکلتے ہیں۔ بی جے پپی کی حکومت آئی تو ایسے سبھی لوگوں کی پہچان کرکے انہیں گولی ماردی جائے گی۔ کسی کو بھی بخشہ نہیں جائے گا۔